برما میں مسلمان بہنوں کے ساتھ شرمناک ظلم مجاہد اسلام افغان طالبان نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

افغان طالبان نے میانمار میںروہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظلوم روہنگیا مسلمانوںکو مشکل کی اس گھڑی میں نہ بھولیں۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں میانمار میںروہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مظلوم روہنگیا مسلمانوںکو مشکل کی اس گھڑی میں نہ بھولیں۔ہم برما کے مسلمانوں کی کیلئے آواز بلندکرنے والے اسلامی ممالک تنظیموں ،میڈیا اور انفرادی لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے کہتے ہیں وہ مدد کی اس گھڑی میں اپنے مظلوم بھائیوں کو نہ بھولیں۔طالبان نے اپنے بیان میں اسلامی ممالک سے کہا ہے کہ وہ برما کے مسلمانوں کے دفاع ،بچائو،حرمت اور انکی ہر قسم کی مدد کیلئے اپنی ذمہ دارایاں ادا کریں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقومی میڈیا برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کو صیح طریقے سے نہیں دکھا رہا اور نہ ہی ہیومین رائٹس واچ اس مسئلے کو سنجیدہ لے رہا ہے ۔ہماری نظر میں یہ نہ صرف غیر منصفانہ اور شرمناک ہے بلکہ یہ انسانیت اور انسانی ہم آہنگی کے متصادم ہے ۔واضح رہے کہ میانمار میں جاری پرتشدد کارروائیوں سے اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش پہنچنےوالے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقریبا 87 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں سے راخائن میں لسانی اور مذہبی تنا رہا ہے لیکن حالیہ پرتشدد واقعات کی لہر سب سے بدتر ہے اور اس سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش میں کئی افراد دریا میں ڈوب کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔2012 میں بھی پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا مسلمان ہلاک اور لاکھوں ہجرت کرنے یا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔حال ہی میں پرتشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا عسکریت پسندوں نے پولیس چوکی پر حملہ کر کے 15 آفیشلز کو مارنے کے بعد کئی گاں جلا دیے تھے۔ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار پولیس اور لسانی راخائن بدھ گروہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے