رواں سال جون میں عرب ممالک کی جانب سے قطر کے سفارتی بائیکات کے تناظرمیں خلیجی ممالک کے درمیان پیداہونے والے اختلافات سنگین شکل اختیارکرگئے ہیں ۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کونشانہ بنانے کے لئے افریقی ممالک کے خطرناک عسکریت پسندوں کی خدمات لئے جانے کاانکشاف ہواہے ۔سعودی عرب کے معتمد ترین جریدے نے اپنی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کے لئے افریقی ممالک صومالیہ اورکینیاسے دہشت گردبھرتی کئے گئے ہیں۔ صومالیہ اورکینیا سے بھرتی کئے جانے والے دہشت گردوں کاتعلق عسکریت پسند گروپ الشباب سے بتایاگیاہے ۔حرکہ الشباب کے ایک اہم عسکری کمانڈر محمدآتم کانام سامنے آیا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیاگیاہے کہ انہیں دہشت گردوں کی سلیکشن کی ہدایت کی گئی تھی ۔ مبینہ منصوبے کے لئے75ملین ریال کی لاگت مخصوص کی گئی ہے ۔ جسے سعودی حکومت مخالف گروپ کے سرغنہ سعدالفقیہ کے ذریعے حوالے کیا گیا ہے ۔سعودی جریدے نے مبینہ منصوبے کاالزام اہم خلیجی ملک قطر پرعائدکردیاہے ۔ قطر کی طرف منسوب کی جانے والی ایک تنظیم اس منصوبے کا ماسٹرمائنڈ ہے ۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیاہے کہ افریقی دہشت گردوں پرمشتمل گروپ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرکاری تنصیبات ،تیل کے کنوؤں اور بیرون ملک سفارتی مشن کو نشانہ بناسکتے ہیں ۔ امریکی انٹیلی جنس نے بھی سعودی مخالف دہشت گرد پلان کاخدشہ ظاہرکردیاہے ۔ ذرائع کاکہناہے کہ سعودی عرب کے خلاف دہشت گردی منصوبے میں مرکزی کردار اداکرنے والے سعد الفقیہ لندن میں مقیم سعودی باشندے ہیں ۔وہ آفیشل طورپرسرجری سرجن ہیں،تاہم گزشتہ کئی سالوں سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے دوران ان کی تمام تر توجہ سعودی عرب میں بدامنی پھیلانے اور نظام حکومت کی بساط لپیٹنے کی سازشوں پر مرکوز ہے۔ سعدالفقیہ نے 1991ء میں سعودی حکومت کے خلاف بھی اصلاحات کے نام پر سازش کی تھی۔ اس کی آڑمیں اس نے سعودی عرب کے مذہبی طبقے کو مشتعل کرکے ملک میں افراتفری کی فضاقائم کرنے کی کوشش کی ۔اس ناکام منصوبے کے بعد وہ سعودی حکومت کی اجازت سے لندن گیا اوروہاں سے سوئزرلینڈ چلا گیا ۔سویزرلینڈ سے وہ یمن گیا جہاں یمنی حکومت نے اسے شہریت دی۔ لیکن یمنی شہریت کے حصول کے فوری بعدوہ لندن واپس چلاگیا ۔ اس طویل نقل وحرکت کے بعد ان کے بارے میں سامنے آنے والے دعویٰ میں کہا گیاکہ انہیں سعودی عرب میں شورش برپا کرنے کے لئے مغربی قوتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ سعد الفقیہ کو عسکری تنظیم القائدہ کے ساتھ روابط کے حوالے سے بھی الزامات کاسامناہے ۔ القائدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے ایک قریبی شخص انجینئر خالد الفواز کے ساتھ روابط کا انکشاف امریکا نے 1998ء کیاتھا جب تنزانیہ میں امریکی سفارت خانے پرحملہ ہواتھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں