پراناشکاری نیا جال مقبوضہ وادی میں عام معافی کے نام پربھارتی سرکار کاناٹک


بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں دکھاوے کے اقدامات کے لئے پہلا لالی پاپ اپنی پٹاری سے نکال لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وادی کشمیر میں سنگ باری کے تمام مقدمات ختم کر دئے جائیں گے ، او ر ایک ہاتھ سے دی گئی یہ خوش خبری دوسرے ہاتھ سے یوں واپس لے لی گئی ہے کہ یہ معافی صرف ان کے لئے ہوگی جن پر ایک ہی مقدمہ درج ہوگا ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سنگ باری کے مقدمات میں نوجوانوں کی شناخت نہ ہونے کے سبب سری نگر پولیس محض خوف پیدا کرنے کی خاطر ہاتھ آنے والے ایک ہی بندے پر کئی کئی مقدمات ڈالتی رہی ہے ، اسی بنیاد پر سری نگر کے پولیس چیف نے دعویٰ کیا تھا کہ’’ سنگ بازوں کا ایک گروپ ہی ہر جگہ دیکھا جاتا ہے ، یہ عوامی تحریک نہیں صرف چند لوگ ہی اس کے پیچھے ہیں‘‘۔ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما کی سفارشات پر وادی میں نوجوانوں کے دل جیتنے کے لئے سنگ بازوں کو ایمنسٹی دی جا رہی ہے۔ تاہم یہ عام معافی یا ایمنسٹی صرف ایسے سنگ بازوں کے لئے ہے جن کے خلاف پولیس تھانوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایف آئی آردرج نہیں ہوئی ہے۔ اس عام معافی کے تحت سنگ بازی کی وجہ سے پہلی بار جیل جانے والے نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی جائیں ۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلہ سے ساڑھے چار ہزار نوجوانوں کو فائدہ ہوگا ۔ لیکن سری نگر سے ایک ماہر قانون نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اصل قصہ صرف اتنا ہے کہ سنگ بازی کے الزام میں گرفتار لڑکوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں اب تک جتنے بھی کیس عدالت میں آئے بری ہوئے حکومت نے اپنی سبکی کم کرنے کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہے ،۔ گزشتہ مہینوں میں مجموعی طور پرقریب11500کیس درج کئے گئے ہیں ۔ان میں4500ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو پہلی بار پتھراؤ کے واقعات میں شامل ہوئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایمنسٹی پالیسی پر عمل درآمد سے قبل تمام ایجنسیوں بشمول سیکورٹی فورس اداروں کے عہدیداران کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ایمنسٹی کا اعلان مذاکرات کار دنیشور شرما کے دوسرے دورہ کشمیر سے محض تین روزہ قبل کیا گیا۔وہ دوسرے مرحلے کا آغاز 24 نومبر کو جموں سے کریں گے۔جبکہ26 نومبر سے کشمیر میں رہیں گے اور قیام کے دوران جنوبی کشمیر کا دورہ کریں گے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دنیشور شرما نے گذشتہ ہفتے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو جو ابتدائی رپورٹ سپردکی، اس میں دیگر متعدد سفارشات کے ساتھ ساتھ سنگ بازوں کو عام معافی دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے کہا کہ سنگ بازی کی وجہ سے پہلی بار جیل جانے والے نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لے لی جائیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایف آئی آرکی واپسی سے نوجوانوں کو اپنی زندگیاں سنوارنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا یہ اقدام جواں سال نوجوانوں اور ان کے کنبوں کے لئے امید کی کرن ہے۔ اس سے انہیں اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کا موقع فراہم ہوگا۔ اس سے قبل بھی اگست 2011 میں اس وقت کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی سنگبازوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ اس ایمنسٹی کے تحت سنگ بازی کے قریب 1200 مقدمات میں سینکڑوں نوجوانوں کے مقدمات واپس لئے گئے تھے۔جن میں سے بیشتر نوجوان ایسے تھے جن کے خلاف ایف آئی آرز 2010 ایجی ٹیشن کے دوران درج کی گئی تھیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں