سرگودھا میں متولی نے20افراد کو قتل کردیا

سرگودھا.. سرگودھا کے نواحی گاوں میں متولی نے مریدوں کو لاٹھی اور چاقو کے وار کرکے20 افراد کو قتل اور کئی زخمی کو کردیا۔ وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے کر تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کردی۔ اسپتال آنے والی ایک زخمی خاتون نے اس کی اطلاع دی ۔ یہ واقعہ سرگودھا کے نواحی علاقے چک نمبر 95 شمالی میں پیش آیا۔ پولیس نے متولی عبدالوحید کو اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔ مقبرہ علی محمد گجر 2 سال قبل آبادی سے دور تعمیر کیا گیا تھا۔ لاہور کے رہائشی اور خود کو متولی کہلوانے والے عبدالوحید نے درس دینے کا آغاز کیا تھا۔ زخمی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ متولی نے گذشتہ روز سے اپنے مریدوں کو بلا کر قتل کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ ملزم اپنے مریدوں کو فون کرکے بلاتا تھا اور ایک ایک کرکے ا نہیںکمرے میں بلا کر قتل کرتا رہا۔ عبدالوحید مریدوںکو نشہ آور جوس پلا کر بےہوش کرتا پھر انھیں لاٹھی اور چاقو کے وار سے تشدد کا نشانہ بناتا تھا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجاتے ۔ لاشوں کو ایک کمرے میں جمع کرتا رہا۔جاں بحق ہونے والے افراد میں 16 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں۔ جائے وقوعہ کے قریب سے ایک اور جزوی طور پر جلی ہوئی نعش ملی جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 20 ہوگئی۔ مرن والوں والوں میں ایک خاندان کے6 افراد شامل ہیں۔ ان کا تعلق اسلام آباد ،لیہ اور سرگودھا سے بتایا جا تا ہے۔ اس سے پہلے اطلاعات تھیں کہ نامعلوم افرد نے لوگوں کونشہ آور مشروب پلایا اور کھانا کھلایا جس سے وہ بے ہوش ہوگئے پھر رات گئے سوتے میں قتل کردیا ۔ واقعہ کے بعد چک 95 شمالی اور اطراف کے دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ معلوم ہو ا ہے کہ گرفتار ہونے والا متولی عبدالوحید الیکشن کمیشن کا سابق ملازم ہے ۔واقعہ کے بعد علاقے کے افراد مشتعل ہو گئے انہوں نے ہنگامہ آرائی کی۔ سیکیورٹی سخت کرکے پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں