پاک بھارت کشیدگی۔۔۔۔امریکی ٹرمپ بھی میدان میں آ گئے

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلے نے کہاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کرے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلے نے کہاکہ یہ بالکل درست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے اور یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہم کس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ جب سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے امریکا کوئی کردار ادا کرسکتا ہے تو انہوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مذاکرات کا حصہ بننے کی کوشش کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں کچھ ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، ہم کشیدگی دیکھ رہے ہیں، جو کسی بھی وقت مزید بڑھ سکتی ہے، لہذا ہمیں اتنا فعال ہونا چاہیے کہ ہم بھی مذاکرات کا حصہ بن سکیں ۔ نکی ہیلے نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ آپ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ارکان کو دیکھیں گے لیکن یہ بھی حیران کن نہیں ہوگا اگر اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حصہ لیں ۔ واضح رہے کہ پاک-بھارت کشیدگی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے کسی رکن کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا خیرمقدم کریں گے۔ مشیر خارجہ نے اس حوالے سے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات اور اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ دنیا اپنے مسائل بیٹھ کر حل کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟ خطے میں استحکام، پاک بھارت تعلقات اور کشمیر سمیت بنیادی ایشوز سے وابستہ ہے۔بھارت نے پاکستان پر روایتی الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک سے دہشت گردی خطے اور دنیا میں امن کیلئے واحدبڑاخطرہ ہے ، امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلے کے اس بیان پر کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کرے گی کے ردعمل میں جاری کیے گئے بیان میں کہاکہ بھارتی حکومت کے اس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں حل کیا جاسکتا ہے۔ بلا شبہ ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری اور ادارے پاکستان سے فروغ پانے والی دہشت گردی سے متعلق عالمی میکنزم وضع کرینگے کیونکہ پاکستان سے دہشت گردی نہ صرف خطے بلکہ دنیا کیلئے واحدبڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالے گا جو فعال انداز میں بھارت کے مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے مابین معاملات صرف اور صرف دوطرفہ بات چیت سے ہی طے کئے جائیں گے اور اس ضمن میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس سلسلہ میں ہندوستان دہشتگردی اور تشدد سے پاک ماحول چاہتا ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان کسی بھی تیسرے ملک کی مداخلت یا ثالثی قبول نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی کمیونٹی کو خطے کو درپیش سب سے بڑے معاملے پر پاکستان کو مجبور کرنا چاہیے اور وہ ہے دہشتگردی انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان گوپال بوگلے نے کہا کہ امریکہ کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔