قندیل بلوچ کے بعد اب میری باری ۔۔۔معروف ترین اداکارہ کا ایسا انکشاف جو آپکے ہوش اڑا دے گا

نگہت داد نے خواتین کے تحفظ کا ادارہ 2012 میں قائم کیا تھا، وہ تب سے آن لائن بلیک میلنگ، تضحیک اور دھمکیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کو قانونی مدد فراہم کرتی آرہی ہیں، مگر گزشتہ برس قندیل بلوچ کے قتل کے بعد ان کے پاس مدد کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔شکایات میں حالیہ اضافے کے بعد انہوں نے گزشتہ برس دسمبر میں ہاٹ لائن بھی قائم کی، جس پر یومیہ درجنوں شکایات موصول ہوتی ہیں، اور یہ ہاٹ لائن آن لائن ہراساں اور دھمکیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے سب سے محفوظ اور آسان طریقہ بھی ثابت ہوا۔وکالت کے پیشے سے وابستہ 35 سالہ نگہت داد کا مقصد خواتین کو محفوظ بنانا ہے، انہیں ان کی خدمات پر گزشتہ برس ایٹلانٹک کونسل کی جانب سے ڈجیٹل فریڈم ایوارڈ اور نیدرلینڈ زحکومت کی جانب انسانی حقوق کا ٹیولپ ایوارڈ بھی دیا گیا۔وہ کہتی ہیں کہ وہ چاہتی ہیں کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم ان کی مدد کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں خاموش نہیں رہنا چاہیئے، ہم ہر وقت متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔آن لائن بلیک میلنگ کا نشانہ زیادہ تر وہ پاکستانی خواتین بنتی ہیں، جن کا تعلق قدامت پسند گھرانوں سے ہوتا ہے، ان خواتین کو صرف فیس بک اکاؤنٹ بنانے اور اپنی اصل تصویر استعمال کرنے پر بھی بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستانی معاشرے میں خواتین کو جنسی طور بلیک میل کرنا بھی بہت بڑا اور عام مسئلہ ہے، کئی خواتین کو ان کے مرد دوست ان کی برہنہ یا نیم برہنہ تصاویر کے ذریعے بھی بلیک میل کرتے ہیں، پہلے ان سے ایسی تصاویر کا مطالبہ کیا جاتا ہے، پھر انہیں ان کی بناء پر پریشان کرکے غلط مطالبے کیے جاتے ہیں۔لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی طالبہ 25 سالہ ایمان سلیمان کو محض اس لیے نفرت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، کیوں کہ انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک نمائش کے دوران خواتین کے حیض سے متعلق گفتگو کی۔ایمان سلیمان بتاتی ہیں کہ اس مسئلے پر نتیجہ خیز بحث کے بجائے انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں، اور تنگ نظر سوشل میڈیا پیجز کی جانب سے ان کی تصاویر اور معلومات شیئر کی گئیں، جس کے بعد لوگوں نے ان کے خلاف دھمکی آمیز گفتگو کرنا شروع کردی۔ایمان سلیمان بتاتی ہیں کہ وہ جارحانہ مہم سے ڈر گئیں تھیں، کیوںکہ انہیں نہیں پتہ تھا کہ جو لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں وہ کیا چاہتےہیں، انہیں والدین نے ڈر کے مارے اسکول جانے سے روک دیا۔ایمان سلیمان کے مطابق وہ ہر وقت خوفزدہ رہتی تھیں، وہ کسی بھی موٹر سائیکل سوار آدمی کو اپنے قریب آتا دیکھتی تھیں تو ا نہیں لگتا تھا وہ انہیں قتل کردے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر وقت گاڑی میں بیٹھ کر اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیتی رہتی تھیں، کیوں کہ آپ اس ملک میں یہ نہیں جانتے کہ آپ کی حدود کیا ہیں، اور آپ نےان حدود کو کب پار کیا اور کوئی بھی آپ کو ان چیزوں کے لیے قتل کر سکتا ہے۔بعد ازاں ایمان سلیمان نے نگہت داد سے رابطہ کیا، اور انہیں کچھ سکون میسر ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں