اسلام آبادکے پوش علاقوں میں شرمناک دھندہ عروج پر پہنچ گیا

شہر اقتدار کے نوجوان منشیات کے نئے نشے کا شکار ہو گئے۔ چرس اور شراب کے بعد آئس اور کلب ڈرگز کا استعمال عام ہونے لگا۔ کالجز اور یونیورسٹیوں کے لڑکے اور لڑکیاں منشیات فروشوں کا ہدف بن گئے۔ خطرناک نشہ کہاں سے آتا ہے؟ پولیس سرا ڈھونڈنے میں ہی ناکام نظر آتی ہے۔آئیس، ایکسٹیسی پلز اور آکسیجن شارٹ سمیت پارٹی ڈرگز کہلانے والے یہ نشے مہنگے ہونے کے سبب اسلام آباد کے پوش علاقوں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ پارٹیز سے نکل کر یہ خطرناک نشہ اب تعلیمی اداروں میں بھی نوجوانوں کی رگوں میں زہر گھول رہا ہے۔آئیس 36 نشوں کا ایک نشہ ہے۔ اس کا سائیڈ افیکٹ یہ ہے کہ جب میوزک لگا ہو تو آپ بہت انجوائے کرتے ہیں لیکن میوزک سٹاپ ہو گا تو آپ کی طبیعت خراب ہو گی، آپ کو الٹیاں شروع ہو جائیں گی اور آپ کے دماغ میں مختلف آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ 3500 سے 4000 تک مل جاتی ہے۔ ایک گرام آئیس 20 سے 25 لوگوں کے لئے کافی ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق یہ نشہ ایک بار منہ کو لگ جائے تو چھوڑنا آسان نہیں۔ اکثر نوجوانوں نے تجرباتی طور پر استعمال کیا پھراس دلدل میں دھنستے چلے گئے۔یہ کلب ڈرگز آتی کہاں سے ہیں؟ پولیس سے پوچھا تو ذمہ دار بیرون ملک سے آنے والوں کو قرار دے دیا گیا۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس نشے سے دور رکھنا ہے تو والدین کو پرائیویسی کے نام پر ان کے کمروں کے بند دروازے کھولنا ہوں گے۔ ہر حال میں بچوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔