بھارتی سپریم کورٹ نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی ،غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست مسترد کردی

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی ،غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔پیر کو بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی ،غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔چیف جسٹس جے ایس کیہار کی سربراہی میں بینچ کا کہنا تھاکہ 1960 میں ہونے سندھ طاس معاہدہ ٹھیک جارہا ہے۔ مقامی وکیل ایم ایل شرما کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ نے مختصر سماعت کے بعدمسترد کی۔بینچ میں ڈی وائی چندراچد اور ایس کے کاہول بھی شامل تھے نے واضح کیا کہ درخواست کو مسترد کرنے کے حکم سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 سے موجود ہے۔ معاہدے کی رو سے پنجاب میں بہنے والے بیاس راوی اور ستلج دریاں کے پانیوں پر انڈیا جب کہ سندھ چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کے اختیار میں دیا گیا۔لیکن بھارت اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب اور جہلم پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کے حصے کا پانی مسلسل کم ہو رہا ہے پاکستان اس حوالے سے عالمی بینک سے احتجاج بھی کرتا چلا آ رہا ہے لیکن بھارت نے متنازعہ آبی منصوبوں پر کام نہیں روکا مقبوضہ کشمیر میں اڑی واقعے کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اعلان کیا اسی دوران عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ پر غیر جانبدار ماہر کا تقرر روک دیا ہے جب کہ پاکستان کا ثالثی عدالت کے قیام کے مطالبہ پر بھی پیش رفت کی دوسری جانب سے مخالفت جاری ہے۔