کلبھوشن کے بعدالطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے متحدہ لندن کے سربراہ کے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کیلئے الطاف حسین کی دہشتگردی کے ثبوت وفاقی حکومت کو بھیج دئیے ہیں،محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے وفاقی حکومت کو لیٹر نمبر 2015/14-SOJI/7 کے ذریعے انٹرپول کو مطلوب دستاویزات ارسال کی گئیں جن میں انٹرپول کی جانب سے بھیجے گئے فارم میں الطاف حسین کی مکمل ذاتی تفصیلات بھی پر کی گئی ہیں۔ دستاویزات میں الطاف کے خلاف ایف آئی آر کی کاپیاں، گواہان کے بیانات، مقدمات کی سمریاں، پہلا گرفتاری وارنٹ، اشتہاری قرار دینے کی کارروائی، ملزم کے خلاف اخبارات میں دئیے جانے والے اشتہار کی کاپیاں، وارنٹ گرفتار زیر دفعہ 512 سی آر پی سی، ملزم کی تصاویر اور دیگر مواد شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی سے ملزم کے خلاف ملنے والی دستاویزات کی 3,3 کاپیاں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھیجی گئی ہیں۔روزنامہ امت کے مطابق انٹرپول کی جانب سے بھیجے گئے فارم کو پر کرتے ہوئے سندھ حکومت نے لکھا ہے کہ الطاف حسین قتل، حملوں، ہنگامہ آرائی، دہشتگردی اور ملک کے خلاف سازش میں ملوث ہے۔ ریڈورنٹ فارم میں ثبوت کے طور پر سابق ایم ڈی کے ای ایس سی شاہد حامد قتل کیس اور 22 اگست 2016ءکو کراچی پریس کلب کے سامنے نفرت انگیز تقریر کے بعد ہنگامہ آرائی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ وفاق کو بھیجی جانے والی دستاویزات میں شاہد حامد کی بیوہ کا بیان شامل کیا گیا۔ شہناز شاہد حامد نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں کہا کہ 5 جولائی 1997ءکو ان کے شوہر شاہد حامد اپنے ڈرائیور محمد اشرف اور گنم ین خان اکبر کے ساتھ سرکاری گاڑی نمبر Z-2638 میں سوار ہوکر گھر سے نکلے ہی تھے کہ کچھ لمحوں بعد میں نے شدید فائرنگ کی آواز سنی اس پر میں اور میرا بیٹا عمر شاہد بابر بھاگے۔ اتنے میں ایک سفید کار تیزی سے میرے قریب سے گزری جس میں ایک شخص (صولت مرزا) فرار ہورہا تھا، جسے میں پہچان سکتی ہوں۔ جب میں جناح ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچی تو وہاں میرے شوہر کی میت پڑی تھی۔ شہناز شاہد حامد کے مطابق ان کے شوہر الطاف حسین کو کھٹکتے تھے۔ میرے شوہر جانتے تھے کہ کرپشن کون کررہا ہے اور پیسہ کہاں بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسے 42 ملازمین کو برطرف کیا تھا، جس پر ایم کیو ایم میرے شوہر کی دشمن ہوگئی تھی اورالطاف حسین کے احکامات پر قتل کیا گیا ۔ وفاق کو بھیجی جانے والی دستاویز میں آرٹلری میدان تھانے میں درج مقدمہ الزام نمبر 2016/117 کے گواہان پولیس اہلکاروں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 22 اگست 2016ءکو وہ آرٹلری میدان تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ پریس کلب پہنچے، جہاں دیگر تھانوں کے ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ پریس کلب پر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان 17 اگست 2016ءسے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت کیمپ میں متحدہ کے رہنما فاروق ستار، کنو نوید جمیل، شاہد پاشا، قمر منصور، عامر خان گلفرازخٹک، عبدالقادر، جاوید کاظم، عارف خان، اکرم راجپوت، اویس برنی، اشرف نور، رفیق اکبر، ذاکر قریشی، اسلم آفریدی سمیت 1500 سے زائد خواتین و مرد کارکنان الطاف حسین کی تقریر سن رہے تھے۔ اطلاف حسین نے تقریر کے دوران کارکنان کو ڈی جی رینجرز اور ٹی وی چینلز کے دفاتر پر حملے کا کہا اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔ الطاف حسین، فاروق ستار، کنور نوید جمیل، شاہد پاشا، قمر منصور نے کارکنان کو اے آر وائی اور سما ٹی وی کے دفاتر پر حملہ کرنے اور براڈکاسٹنگ بند کرنے کا کہا، جس پر کارکنان نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، اطراف کی سڑکیں بھی بند کرادیں ،پولیس موبائل اور دیگر گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ذرائع کے مطابق دستاویزات میں اس طرح دیگر گواہان کے بیانات بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں