افغان باشندوں کےشناختی کارڈزکےبلاک کی پس پردہ کہانی ‘ ا ے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کا احتجاج

اسلام آباد(ویب رپورٹ) اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل سے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر افغانیوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کےخلاف احتجاج کریں گے ۔ حالانکہ یہ موصوف اسفندیار ولی خان پاکستانی ہیں نہ کہ افغانی ۔ معلوم نہیں کہ انہیں افغانیوں سے اتنی محبت کیوں ہے ؟افغانستان موجودہ حالات میں امریکہ اوربھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے جبکہ افغانی باشندے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں ایسے حالات میں اسفند یار ولی کی افغانیوں کے حق میں احتجاج کا اعلان پاکستان دشمنی کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا ۔ نادرا حُکام نے ملک کی ایک اعلیٰ خفیہ ادارے کی رپورٹ پر ضلع بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عرصہ دراز سے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر مبینہ افغانیوں کے پاکستانی شناختی کارڈ بلاک کردیئے ہیں اور جلد ہی ان افغان شہریوں کے گھروں میں نادرا کی جانب سے خطوط ارسال کیئے جائیں گے جن میں انھیں حکم دیا جائے گا کہ وہ اپنے نادرا کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ واپس متعلقہ اداروں کو جمع کروا کر اپنے ملک جانے کے لیے رخت سفر باندھ لیں بصورت دیگر انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائےگی۔باوثوق ذرائع کے مطابق جہاں نادرا کی اس کاروائی نے پاکستان میں مقیم ان ارب پتی مبینہ افغانیوں میں کھلبلی مچا دی ہے وھاں صوبہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے بااثر افراد و سیاستدانوں کی چاندی ہو گئی ہے کیونکہ وہ ان مبینہ افغانیوں کے رجسٹریشن فارمز کی تصدیق کرنے کے لیے لاکھوں روپے رشوت طلب کررہے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان اور کے پی کے سے منتخب عوامی نمائندے ان بلاک شدہ مبینہ افغانیوں کے نادرا رجسٹریشن فارمز کی تصدیق کے لیے دس سے پندرہ لاکھ روپے تک رقم وصول کر رہے ہیں جو کہ ملک پاکستان سے غداری/دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔ فارمز کو تصدیق کرنے کا مقصد نادرا حکام کو بتانا ہے کہ میں (ایم این اے/ایم پی اے اس بلاک شخص کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور یہ افغانی نہیں ہے) معلومات کے مطابق نادرا نے جن تینتالیس مبینہ افغانیوں کے پاکستانی قومی شناختی کارڈز بلاک کیئے ہیں اُن میں:کراچی کے رہائشی حاجی محمد طاہر ولد محمد رحیم عرف گلا لئی حاجی شناختی کارڈ نمبر27187477 -42101، گُل پیدا بی بی زوجہ حاجی محمد طاہر، سردار ولی ولد معمد عیسی 06000265-42401، حاجی عبدالمنان ولد حاجی صاحب خان عرف حاجی طاہر(03258999 -42201)،بی بی زینب دُختر محمد شاہ 04111570 -42201. حکمت اللہ بابر ولد عنایت اللہ70498511 -42201 اور عنایت اللہ ولد آمین اللہ05815011- 42201 جبکہ چمن کے رہاشی حاجی عبدالرؤف ولد تاج محمد (قلعہ عبداللہ)03276331 -54201، صالع محمد ولد فضل معمد، 92599757 -54201، فضل معمد ولد خدائے دوست24358411 -54201، آغا معمد ولد داد معمد04322297-54400، معمد صادق ولد عبدالخالق 64609785- 54400، نازیہ بی بی زوجہ معمد صادق15376960 -54201، عبدالبصیر ولد سید ولی10789441 -54201. شاہ محمد ولد تاج محمد42598893 -5420، سید ولی ولد راز محمد69677657 -54201، بی بی سہیلی زوجہ سید ولی،شیر محمد ولد سید ولی77653991-42401، جان محمد ولد سید ولی78614441-42401 ، شاہ محمد ولد تاج محمد42598893- 54201، فدا محمد ولد حاجی صالع محمد44826841- 54201، بی بی نُورا زوجہ فدا محمد33493936- 54201، حبیب اللہ ولد شکاری 26194549 -54201، آیت اللہ ولد حاجی کمال 24425469 -54201، ولی جان ولد حاجی کمال 24449889 -54201. شیر جان ولد راز محمد 90572213 -54201، محمد قاسم ولد راز محمد 88676239 -54201، حاجی عبدالرشید ولد آغا محمد 24422829 -54201، متولی ولد حاجی خداداد 24573545 -54201، جمال شاہ ولد محمد شاہ 24620193 -54201، حاجی محمد خان ولد محمد غوث 24422827 -54201، مولا داد ولد محمد شاہ 24437617 -54201، خدائے داد ولد محمد شاہ 24437499 -54201، نصراللہ ولد غلام محمد 51051753 -54400، عبدالبصیر ولد غلام محمد 06311005 -54400. سعد اللہ ولد غلام محمد 44477210 -54400، عبدالمالک ولد اختر محمد 65005325 -54201، بی بی روضیہ زوجہ فضل محمد 12515594-54201، بی بی فیروزہ زوجہ فضل محمد 88752550 -54201، فدا محمد ولد ملک علی غوث 29141049 -54201، رحمت اللہ خان ولد عبدالغفور75166249 -54201 اور حیات اللہ ولد عبداللہ شناختی کارڈ نمبر29141049 -54201 شامل ہیں ۔ اسی طرح کو ئٹہ کے رہائشی سلطان محمد درانی 83413499 -54401, مولوی عبدالسلام ولد حاجی سید جان 24432221 -54201 اور سیالکوٹ کے سخی جان ولد سخاوت خان کے بھی قومی شناختی کارڈز بلاک کر دیے گئے ہیں۔واضح رہے کے دسمبر 2015 میں پشاور میں ایک ملٹری سکول پر دہشت گردوں کے خوفناک حملےکےبعد حکومت، پاکستان آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا جس کے تحت پاکستان میں رہائش پذیر تمام افغان مہاجرین اور غیر ملکی افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا کیونکہ بیشتر افغانیوں اور دوسرے غیر ملکی افراد نے نادرا کے افسروں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو مبینہ طور پربھاری رقوم دے کر جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈ حاصل کیے جس کی بنیاد پر ان افغانیوں اور دوسرے غیر ملکی افراد نے پاکستان میں اربوں کا کاروبار جما لیا اور جائیدادیں خرید لیں۔ڈیڑھ سال قبل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے فیصلہ کی روشنی میں ان تمام مشکوک افراد کے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کا عمل ملک بھر میں شروع ہوا جس میں اب تک ملک کی اعلیٰ انٹیلیجنس ایجنسی کی شبانہ روز محنت و تگ دود کے نتیجے میں اب تک تقریباً تین لاکھ سے زائد غیرملکی افراد کو پکڑا گیا ہے جبکہ ساڑھے چار لاکھ کے قریب افغانیوں کے شناختی کارڈ بلاک کر دیئے گئے ہیں جس کی بعد یہ افراد نہ تو اپنی جائیدادیں فروخت کر پائیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے فرد کے نام منتقل کر پائیں گے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مزید چار لاکھ سے اوپر افغانیوں کے خلاف تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں جن میں اکثریت صوبہ بلوچستان میں چمن، کوئٹہ، لورالائی اور دیگر اضلاع میں رہائش پذیر ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان کے اکثر ایم این ایز اور ایم پی ایز نے ان بلاک شدہ افغانیوں کے شناختی کارڈز نادرا سے دوبارہ ایکٹیویٹ کروانے کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے عوض انکی رجسٹریشن فارمز کی تصدیق کے عمل شروع کر دیا جس پر ملکی سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں اور ان کی افسران میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ ایک انٹیلیجینس ایجینسی سیاستدانوں کی اس ملک دشمن پالیسی کو لگام ڈالنے کے لیے حرکت میں آچُکی ہے۔دوسری طرف ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر ایف آئی اے اور پاسپورٹس اینڈ ایمیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران و اہلکاران بلاک شدہ افغانیوں کومبینہ طور پر ملک سے باہر جانے کے لیے بھاری رشوت کے تحت خُروج لگا کر دے رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ انٹیلیجینس ایجینسی کی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کے سرکاری اداروں میں جعلی کوائف اور سپیشل برانچ کی جانچ پڑتال کے بعد ملازمت حاصل کرنے والے بے شمار افغانیوں کو بھی بلاک کر کے نوکریوں سے نکالنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ان کے خلاف بڑے پیمانے پر تفتیش کا عمل شروع ہو چکا ہے۔مزید برآں ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ نادرا کے جعلی شناختی کارڈ کے حامل افغانیوں کی اکثریت افغانستان کی انٹیلیجینس ایجینسی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے پے رول پر کام کررہی اور ان ایجینٹوں نے پاکستان کے حساس علاقوں میں اپنے گھر اور کاروبار جما رکھے ہیں جبکہ اصل میں یہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔نادرا ہیڈ کوارٹرزاسلام آباد کے ترجمان نےبتایا کہ نادرا کو کوئی افسر کرپشن میں ملوث نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ کوئی اہلکار کسی فرد کو گائیڈ لائن دے کہ فلاں فلاں کاغذات ہوں تو شناختی کارڈ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں موجود یونین کونسلز اور ان کے سیکریٹریز بغیر جانچ پڑتال کے پیدائشی سرٹییفکیٹ جاری کرتے ہیں جس سے لوگوں کو نادرا شناختی کارڈز بنوانے میں آسانی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نادرا میں دن رات کے عمل سے جدت لائی جارہی ہے اور کسی بھی فرد کو جعلی کارڈ ایشو نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں