ہمارے بعض سیاستدانوں کا بس چلتا تو وہ کلبھوشن کو دودھ کے پیالے پیش کر تے، سراج الحق

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ ہمارے بعض سیاستدانوں کا بس چلتا تو وہ کلبھوشن کو دودھ کے پیالے پیش کر تے، ہمیں بھارتی جاسوس کو سزا دے کر ملک دشمنوں کے لئے مثال قائم کر نی ہو گی،عزیر بلوچ ہو یا کوئی اور،قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ عوام پاناما کیس کے فیصلے کے منتظر ہیں ، پاناما کیس کا فیصلہ عوام کے حق میں آنا چاہیے،ملک میں کرپشن کا کینسر موجود ہے،اگر اس کینسر کے خاتمے کیلئے 6ہزار لوگ جیلوں میں بھی چلے جائیں تو یہ بری بات نہیں ہے ،کرپٹ طبقے کی وجہ سے ملک دوحصوں میں تقسیم ہوا،دو فیصد اشرافیہ نے سیاست اور جمہوریت کو یرغمال بنارکھا ہے جبکہ 98 فیصد لوگ غلامی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔جنوبی پنجاب کے حقوق کیلئے عملی جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔وہ بدھ کے روز ملتان میں جماعت اسلامی کے مرکز جامع العلوم معصوم شاہ روڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد،آصف اخوانی،کنورصدیق ودیگر بھی موجود تھے،امیرجماعت اسلامی سینٹرسراج الحق کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کلبھوشن نے جرم کیاہے ،اسے سزا ملنی چاہیے،بھارتی جاسوس کے معاملہ پر حکومت کا موقف تاحال واضح نہیں ہے ،حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیاں سامنے ہیں۔ وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان جیسا ٹھنڈا بارڈر بھی اب ہمارے لئے گرم ہو رہا ہے۔بھارت افغانستان کو ہمارے خلاف استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام پاناما فیصلے کے منتظر ہیں،، فیصلہ صرف اور صرف کرپشن کے خلاف آنا چاہیئے۔یہ المیہ ہوگا کہ اگرعدالتوں پرعوام کا اعتماد ختم ہوجائے۔یہاں عدالتوں میں فیصلے نہیں ہوتے،یہاں چوکوں اور چوراہوں میں فیصلے ہوتے ہیں لیکن یہ درست راستہ نہیں ہے،ہماری خواہش ہے کہ پاناما فیصلہ عوام کے حق میں او رکرپشن کیخلاف ہو ،سپریم کورٹ کرپشن کے خاتمے کیلئے میکنزم بھی دے دے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پاناما سکینڈل آنے سے قبل کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کی تھی ،وہ تحریک جاری رہے گی۔جماعت اسلامی کے ساتھ ایک دیانتدار اور مخلص قیادت ہے ،جماعت اسلامی اس ملک کی تقدیر کے فیصلے کوتبدیل کرسکتی ہے،جماعت اسلامی ہی حقیقی معنوں میں ایک جمہوری اور فلاحی جماعت ہے۔انہوں نے کہا کہ میں غریب عوام سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ روشن اور خوشحال پاکستان کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ عزیر بلوچ کو فوج کی جانب سے تحویل میں لئے جا نے کے حوالے پو چھے گئے سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مجرم کو مجرم ہی سمجھا جانا چا ہیے، اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اسے سزا ملنا ضرور دی جانی چاہیے ، اگر عزیر بلوچ کو گرفتار نہ کیا جاتا تو خدشہ تھا اسے بھی ڈاکٹر عاصم کی طرح سیاسی عہدیدار بنا کر آزاد کروا لیا جاتا۔عزیر بلوچ ہو یا کوئی اور سب کے ساتھ قانون کے تناظر میں معاملہ دیکھنا چاہیے۔ شام کی صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ شام میں سپر پاورز کی لڑائی لڑی جا رہی ہے، شام کے بعد اس گریٹ گیم میں سعودی عرب اور پاکستان کی باری بھی آ نی ہے۔شام کی صورتحال عالمی سازش کا حصہ ہے۔تمام عالم اسلام کو متحد ہوکر دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے انتخابی وعدوں کی تکمیل نہ ہونے پر حکمرانوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمران عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلا مو ں کی حکومت ہے۔ 98 فیصد لوگ غلامی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی بجائے حکمران عوام کے پیسوں نے ذاتی تشہیر میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ الیکشن 2018سے قبل الیکشن ریفارمز ہوں،اگر ریفارمز کے بغیرالیکشن ہوئے تو وہ برائے نام الیکشن ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں