اربوں روپے ڈوب گئے، عمران خان اور جسٹس افتخار چوہدری کو حکومت کا بڑا جھٹکا ،کس چیز میں ملوث تھے؟ حیران کن انکشاف

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں بننے والی کثیر المنزلہ عمارت گرینڈ حیات کی لیز سی ڈی اے نے منسوخ کر دی ہے۔ اس کثیر منزلہ عمارت کے ساتھ بننے والے لگژری اپارٹمنٹس بھی منسوخ ہو گئے ہیں ، اس طرح اب اسلام آباد کی سب سے بڑی عمارت نہیں بنے گی ۔کامران خان نے کہا کہ مذکورہ گرینڈ حیات ہوٹل میں ملک کی درجنوںوی آئی پی شخصیات جن میں عمران خان، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، سابق چیف جسٹس ناصر الملک سمیت 200 نمایا ں شخصیات کی سرمایہ کاری شامل تھی۔ اب ان تمام شخصیات کو یہ سرمایہ ڈوبتا ہوا نظر آ رہا ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرینڈ حیات ہوٹل اور اُس کے اپارٹمنٹس کے کئی مالکان کی طرف سے سی ڈی اے بورڈ کے 29 جولائی2016 ؁ء کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو خارج کر دیا ۔ گرینڈ حیات ہوٹل کے بلڈرز میسرز بی این پی اور اپارٹمنٹس کے کئی مالکان نے سی ڈی اے بورڈ کے اُس فیصلے کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں جس میں سی ڈی اے بورڈ نے گرینڈ حیات ہوٹل میں سی ڈی اے آرڈینینس اور بلڈنگ بائی لاز وغیرہ کی خلاف ورزیاں کرنے پر 29 جولائی 2016 ؁ء کو بورڈ کے اجلاس میں گرینڈ حیات ہوٹل کی لیز کینسل کر دی تھی۔سی ڈی اے کی طرف سے ایڈیشنل لیگل ایڈوائزر کاشف علی ملک اور جناب افتخار گیلانی ایڈووکیٹس نے کیس کی پیروی کی جبکہ میسرز بی این پی اور اپارٹمنٹس مالکان کی طرف سے بیرسٹر اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر، خواجہ حارث احمد، بابر ستار اور علی رضا ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ رٹ پٹیشن نمبر3043/2016 کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس اظہر من اللہ کی عدالت میں ہوئی اور کئی سماعتوں میں ہر فریق کا موقف سننے کے بعد معزز عدالت نے سی ڈی اے بورڈ کے 29 جولائی 2016 ؁ء کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو خارج کر دیا ۔ تاہم معزز عدالت نے وفاقی حکومت اور سی ڈی اے سے کہا ہے کہ وہ گرینڈ حیات ہوٹل کے اپارٹمنٹس کے مالکان کی داد رسی اور ازالے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔