ایم کیوایم کے کارکن لاپتہ نہیں ہوئے بلکہ بھارت فرار ہوچکے ہیں‘ عدالت میں تہلکہ خیزانکشاف

کراچی(ویب ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے بیشترکارکن لاپتہ نہیں ہوئے بلکہ بھارت فرار ہو چکے ہیں۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نے سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ کارکنوں کی بازیابی سے متعلق کیس میں بڑا انکشاف کردیا۔ عدالت نے محکمہ داخلہ، آئی جی سندھ،ڈی جی رینجرز اور دیگر کو دو ہفتوں میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔سندھ ہائیکورٹ میں ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نےعدالت میں بیان دیا کہ ایم کیو ایم کے کارکن لاپتہ نہیں ہوئے بلکہ بھارت فرار ہوگئے ہیں۔ ذوالفقار مہر کے مطابق ایم کیوایم کے بیشترکارکن لاپتا نہیں ، کارکن امیر احمد گرفتاری کے خوف سے بھارت فرار ہو گیا ہے۔ امیر احمد بانوے کے آپریشن کے دوران بھی بھارت فرار ہو گیا تھا جبکہ کارکن ارشاد بھی گرفتاری کے خوف سے بھارت فرار ہو چکا ہے۔ جسٹس شفیع صدیقی نے استفسار کیا کہ کیا فرار ہونے والے کارکنوں کا کریمنل ریکارڈ ہے؟ انہوں نے کسی دوسرے ملک پناہ لینے کے لیے کوئی جواز پیش کیا ہوگا۔ ایس ایس پی ایسٹ نے جواب دیا کہ بھارت میں ایم کیوایم کا اپنا نیٹ ورک موجود ہے۔ پناہ کے لیے کوئی خصوصی درخواست نہیں دینی پڑتی۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ ہمارے ائرپورٹس یاامیگریشن حکام کے پاس تو ایم کیو ایم کارکنوں کے بیرون ملک جانے کا ریکارڈ موجود ہوگا۔ جس پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن ایسٹ ذوالفقار مہرنے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مہلت دینے کی استدعا کی۔عدالت نے ایم کیوایم کے دیگر کارکنوں کی گمشدگی کی نئی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئےکہا کہ دو ہفتوں میں کارکنوں کی گمشدگی اور اگر وہ ملک سے فرار ہوئے ہیں تو مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔ سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی محکمہ داخلہ، آئی جی سندھ،ڈی جی رینجرز اور دیگر کو دو ہفتوں میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں میں ایوب شاہ، ہارون احمد، سہیل غوری اور زاہد شامل ہیں جن کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لاپتہ کارکنوں کو مختلف علاقوں سے رینجرز اور پولیس نے حراست میں لیا تھا جو بعد میں لاپتہ ہوگئے۔