لاہوربم دھماکہ: حملہ آورکب اور کس ملک سے آیا؟ نئے انکشافات قوم کو حیران کر دیا

لاہور (نیوز ڈیسک) بیدیاں روڈ دھماکے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور دسمبر2016ءمیں لاہور میں داخل ہوا تھا۔حملہ آور کے مختلف ناموں سے ایک نام عمر تھا۔ عمر افغانستان سے لاہور آیا تھا۔ عمر کے تین بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کالعدم تنظیم سے وابستہ ہیں۔ سوات آپریشن کے وقت عمر اور اس کا خاندان افغانستان منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے خاندان کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بیدیاں روڈ دھماکے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور دسمبر2016ءمیں لاہور میں داخل ہوا تھا۔ حملہ آور کے مختلف ناموں سے ایک نام عمر تھا۔ عمر افغانستان سے لاہور آیا تھا۔ عمر کے تین بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کالعدم تنظیم سے وابستہ ہیں۔ سوات آپریشن کے وقت عمر اور اس کا خاندان افغانستان منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے خاندان کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بیدیاں روڈ دھماکے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور دسمبر2016ءمیں لاہور میں داخل ہوا تھا۔ حملہ آور کے مختلف ناموں سے ایک نام عمر تھا۔ عمر افغانستان سے لاہور آیا تھا۔ عمر کے تین بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کالعدم تنظیم سے وابستہ ہیں۔ سوات آپریشن کے وقت عمر اور اس کا خاندان افغانستان منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے خاندان کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بیدیاں روڈ دھماکے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور دسمبر2016ءمیں لاہور میں داخل ہوا تھا۔ حملہ آور کے مختلف ناموں سے ایک نام عمر تھا۔ عمر افغانستان سے لاہور آیا تھا۔ عمر کے تین بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کالعدم تنظیم سے وابستہ ہیں۔ سوات آپریشن کے وقت عمر اور اس کا خاندان افغانستان منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے خاندان کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں