افغانستان سے دہشتگرد گروپس پاکستان میں داخل, سکیورٹی اداروں نے خبردار کردیا

ملتان(ویب ڈیسک) بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مدد سے دہشت گرد تنظیم لاہور، نوشہرہ سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کی بڑی سیاسی شخصیات کی ہائی آفیشلز اور حساس ادارے کے آفیسرز کو اغواءکرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سپیشل برانچ ہیڈ کوارٹر لاہور اور ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ تھریٹس الرٹ لیٹرز میں بتایاگیا ہے کہ دہشت گردوں نے افغانستان کے صوبے کنہار میں ٹریننگ بھی مکمل کرلی ہے جن کو پاکستان میں مختلف روٹس کے ذریعے داخل کیا جارہا ہے جبکہ ایک اطلاع کے مطابق داعش کے دہشت گرد جنوبی پنجاب میں بڑی سیاسی شخصیات، ہائی لیول گورنمنٹ آفیشلز اور انٹیلی جنس آفیسرز کو اغواءکرنے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کا ٹاسک داعش کے دہشت گرد گروپ جس کو رضوان نامی دہشت گرد لیڈ کر رہا ہے، دے دیا گیا ہے۔ صورت حال کے مطابق سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی جائے۔ ادھر ہیک کرنے کے لئے افراد کو ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگوں کے فیس بک آئی ڈی کو ہیک کرکے یا جعلی بنا کر مذہبی توہین آمیز چیزیں لکھنا شروع کر دی ہیں۔ ہیکرز بھارت کے چندی گڑھ، امرتسر، افغانستان اور دبئی سے بیٹھ کر یہ کام کر رہے ہیں۔ مختلف پاکستانی شہروں میں ان کے پے رول پر کام کرنے والے ہیکرز موجود ہیں۔ انہوں نے مختلف مذہبی رہنماﺅں کے جعلی فیس بک اکاﺅنٹس بھی بنا رکھے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایسے علماءکے بھی اکاﺅنٹس بنا رکھے ہیں جن کی طرف سے فوری فتویٰ بھی جاری کر دیا جاتا ہے۔ کئی سعودی علماءکے اکاﺅنٹس بھی اس میں شامل ہوتے ہیں، پہلے کسی اکاﺅنٹ سے توہین آمیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے پھر ایک اکاﺅنٹ سے فتویٰ جاری اور پھر لوگوں کو کرایے پر لے کر جلوس بھی نکلوائے جاتے ہیں۔ حساس اداروں کی آئی ٹی ٹیم نے ایسے لوگوں کے خلاف کام شروع کر دیا ہے۔ غیر ملکی ایجنسیز کے آلہ کار پاکستانی ہیکرز کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ بیرون ملک بیٹھے ہیکرز کو بھی کاﺅنٹر کیا جا رہا ہے۔