زرداری کے لاپتہ دوستوں کا کلبھوشن سے تعلق ہے’ نئے انکشاف نے ہلچل مچادی

کراچی (ویب ڈیسک)سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کے نیٹ ورک کا انکشاف عزیربلوچ نے کیاتھا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی کے لاپتہ افراد کا تعلق بھی اسی نیٹ ورک سے ہے اور کڑیاں بہت دور تک جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو میں ہونے والی کانفرنس خطے کی سیاسی صورتحال تبدیل کردے گی۔ افغانستان میں امن کی راہوں کا تعین افغان طالبان ہی کرسکتے ہیں۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ عزیربلوچ نے اپنے اعترافات میں ہی کلبھوشن کے نیٹ ورک کا اعتراف کیا تھا اس کے انکشاف پر ہی کلبھوشن تک پہنچا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ سابق آرمی چیف نے یہ کہا تھا کہ کرپشن اور دہشت گردی کا آپس میں رشتہ ہے۔ کیونکہ عزیربلوچ کو جولوگ اپنی سیاسی قوت کو مضبوط کرنے کے لئے استعمال کررہے تھے، وہ سب کے سامنے ہیں۔ اس وقت بھی پیپلزپارٹی کی ایک اہم سیاسی شخصیت کے ساتھ تعلق رکھنے والی شخصیات جو بظاہر لاپتہ ہیں، ان کا تعلق بھی عزیر بلوچ اور کلبھوشن نیٹ ورک سے ہے۔ انہیں اسی وجہ سے اٹھایاگیا ہے ابھی اور بھی بہت سے ہوش ربا انکشافات ہونے ہیں۔ کیونکہ اس نیٹ ورک کی کڑیاں بہت دور تک جار ی ہیں ہمارے انٹیلی جنس ادارے اب فعال ہوگئے ہیں۔ ماضی کی طرح نہیں کہ قومی سلامتی کو بالائے طاق رکھ کر میموگیٹ جیسی کارروائی ہوتی رہے۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں حسین حقانی کی جانب سے امریکہ اور برطانیہ سے ان کے ایجنٹوں کو پاکستان میں داخلے کی آزادانہ اجازت دی گئی۔ پاکستان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک دو مواقع پر ٹوٹا ہے پہلی بار 1994ءمیں جب بے نظیر بھٹو برسراقتدار آئی تھیں۔ بے نظیر بھٹو حکومت نے امریکہ کے کہنے پر تین دن کے اندر آئی ایس آئی کے سات ڈائریکٹراور 17آپریٹرز کو نکال دیا تھا۔ وہ تمام لوگ جن کا تعلق افغانستان اور مجاہدین سے تھا، انہیں نکال دیاگیا۔ یہ آئی ایس آئی کو توڑنے کی پہلی کوشش تھی، یہی پہلا جھٹکا تھا، پاکستان کے انٹیلی جنس نظام پر دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب پرویزمشرف صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے 2004ءمیں ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں سے پاکستان کے تمام انٹیلی جنس نیٹ ورک کو آئی ایس آئی لے کر سی آئی اے کے حوالے کردیا اورجب زرداری کی حکومت آئی اور انہیں حسین حقانی جیسے لوگوں کی مدد حاصل رہی تو پھر پاکستان کی سرحدیں امریکی بلیک واٹر اور سی آئی اے کے دوسرے ایجنٹوں کے لئے کھول دی گئیں۔ اس دوران ہزاروں جاسوس آئے اور انہوں نے پاکستان کی سکیورٹی کی جڑیں کاٹ ڈالیں۔ لیکن اللہ کا کرم ہے کہ اب ایسی عسکری قیادت آئی ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنا کام کررہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بڑی سازشیں پکڑی جارہی ہیں۔سابق آرمی چیف نے کہا کہ عزیر بلوچ نے بہت سے انکشافات کئے ہیںجس کی وجہ سے اس نے خود اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اسے جیل میں قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے پاکستانی سیاست میں موجود بڑی شخصیات کا نام لیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ مجھے سکیورٹی فراہم کی جائے کیونکہ میری جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو افغان عوام سے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ ماضی میں بھی سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعلقات افغان عوام سے تھے‘ افغان حکومت سے نہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ اس وقت بھی افغان مجاہدین کی طرح افغان طالبان اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم نے انہیں نہ صرف نظرانداز کیا ہے بلکہ ہم نے غاصب افواج کی مدد کی ہے۔ اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ جمعہ کو ماسکو میں 12ملکوں کی کانفرنس ہو ئی جس میں امریکہ شامل نہیں تھا بلکہ وہ اس کانفرنس کی مخالفت کر رہا تھا۔ یہ بڑی اہم کانفرنس تھی جس میں روس‘ چین‘ پاکستان اور ایران شریک تھے۔ اس کانفرنس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان ملکوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ افغانستان میں طالبان ہی وہ قوت ہیں جو مستقبل میں امن کی راہوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان سے معاملات طے کئے جائیں۔ ایسے حالات میں ہم نے اپنے افغان دوستوں کو امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ناراض کر دیا ہے۔ پاکستان کو اب سوچنا ہے کہ اس نازک موقع پر اسے کیا فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ہم امریکہ کے ہی بتائے ہوئے راستے اور پالیسی پر چلتے رہیں گے یا ہمیں کوئی اور نیا راستہ اختیار کرنا ہے‘ تاکہ طالبان کی مدد سے ہمارے ناراض قبائلی جن کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہے اور ہمارا دشمن انہیں استعمال کر رہا ہے‘ انہیں پاکستان واپس لایا جائے‘ اور وہ صرف طالبان ہی کی مدد سے واپس آ سکتے ہیں اور کسی کی مدد سے نہیں۔ اس کے بعد ہی پاک افغان سرحدوں پر امن قائم ہوگا۔ یعنی پاکستان کے خلاف بھارت اور دیگر دشمن ممالک کی سازشوں کا خاتمہ بھی اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم افغان طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ کلبھوشن جیسے واقعات جنم ہی نہیں لینے پائیں گے اور ایسے واقعات کا سدباب ہو گا۔ بھارت کی افغانستان کے راستے مداخلت کی وجہ سے ہماری 2لاکھ سے زیادہ فوج مغربی سرحدوں پر لگی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ازلی دشمن کے خلاف پوری طرح سے تیار ہوگی۔ روس‘ چین اور ایران نے حالات کو سمجھا ہے اور نہایت دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے‘ جس میں ہمیں بھی شامل ہونا چاہئے اور ہمیں امریکہ کی سازش اور اس کے ردعمل سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سازش میں بھارت بھرپور طریقے سے شامل ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ افغان طالبان ہی پاکستان میں قیام امن کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں