حکومت کا وزارت پانی و بجلی میں افسران تبدیل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت پانی و بجلی میں افسران کی تبدیلی کا فیصلہ۔ ملک میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر وزارت پانی و بجلی اپنا کردار ادا کرنے میںناکام رہی ہے ۔ وزارت پانی و بجلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ وزارت ایک ٹیکنیکل وزارت ہے جہاں پر قابل لوگوں کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے دیگر وزارتوں سے لوگوں کو لا کر کام چلایا جاتا ہے ۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے وزارت میں کام کرنے والے تمام افسران کو میڈیا سے بات کرنے سے بھی منع کیا ہوا ہے اور وزارت کی جانب سے میڈیا کو بجلی پیداوار اور ڈیمانڈ تک کی رپورٹ بھی ظاہر نہیں کی جاتی کیونکہ ڈیمانڈ اور پیداوار میں کافی فرق ہے جس سے وزارت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں ۔ وزارت میں پانی و بجلی ترجمان ظفر باب خان کو بھی لایا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ ایک سال میں تین افسران کو بھی تبدیل کیا گیا ہے لیکن یہ افسران کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعظم ہاﺅس میں توانائی کے حوالے سے ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سابق سیکرٹری پانی وبجلی یونس ڈھاگہ نے بجلی و پانی کی کارکردگی کا تمام تر ملبہ حکومتی وزراءپر ڈال دیا ۔ یونس ڈھاگہ کو مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد کنٹریکٹ پر رکھا گیا ہے جو کہ اسٹیبلشمنٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت میں ڈپیٹویشن ملازمین کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور سب اچھا ہے کی رپورٹس جاری کی ہیں لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اصل صورت حال کیا ہے اعلی سطح اجلاس میں بجلی کی صورت حال پر قابو پانے کے لئے ایک کنٹرول سیل وزیر اعظم ہاﺅس میں بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد رواں پیک سیزن میں بجلی بحران پر قابو پانا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت پانی و بجلی میں افسران آنے سے بڑے کتراتے ہیں کیونکہ گراﺅنڈ پر صورت حال ایسی نہیں ہے جو پیش کی جاتی ہے ۔ ملک میں بجلی کی واضح کمی ہے جس کو پورا کرنا افسران کا کام نہیں ہے ۔ وزارت کے پاس ترجمان نہ ہونے کی وجہ سے افسران بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں ۔ دوسری جانب عوامی خدمت گار ملازمین نے عوام کے لئے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں کسی بھی عام شخص کو جرات نہیں ہوتی کہ وہ کسی افسر سے ملاقات کر سکے یا اپنا مسئلہ پیش کر سکے ایسے لوگوں کو وزیر اعظم شکایات سیل میں بجھوا دیا جاتا ہے وہاں شکایت پر فوراً ایکشن تو لیا جاتا ہے لیکن کام نہیں ہو پاتا ۔ بعض افسران نے اپنے دروازوں پر نوگوایریا کے بورڈ بھی لگائے ہوئے ہیں کہ پہلے پی ایس سے بات کریں اور پی ایس عوام کو میٹنگ پر ٹرخا دیتا ہے جو کہ زیادتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی پی دور میں ایسا نہیں تھا کسی افسر کو بھی جرات نہ تھی کہ وہ اسی قسم کا رویہ اپنائے انہیں عام لوگوں سے ملنا پڑتا تھا اور عوام کے مسائل بھی حل کرنے پڑتے تھے اور ریجن میں موجود افسران کے منفی رویئے پر ایکشن لینا پڑتا تھا لیکن اب تو افسران کوئی لفٹ کرواتے ہیں اور نہ ہی وزراءجو کہ زیادتی ہے