ٹیلی فون انڈسٹری کے ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے ٹیلی فون انڈسٹری کے ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے وفاقی حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی ، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پرانے لوگوں کو نکال کر نئے لوگوں کو بھرتی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ،کسی ادارے کی تباہی کے ذمہ دار چھوٹے نہیں بڑے ملازمین ہوتے ہی،ادارہ نئے لوگوں کو بھرتی کر کے چلایا جا سکتا ہے تو سابقہ ملازمین سے کیوں نہیں چلایا جا سکتا۔منگل کو ٹیلی فون انڈسٹری کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راناوقار نے موقف اختیار کیا کہ ملازمین کے حوالے سے پالیسی بنائی جا رہی ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ملازمین کو عزت کے ساتھ رخصت کیا جائے ،ٹی آئی پی بنک کرپٹ ہو چکی ہے اور ملازمین کی ادائیگی کے لیئے رقم نہیں ہے،ایک ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ مسئلہ حل کیا جائے، اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو کیا بتائیں جو آس لگائے ہمارے پاس آئے ہیں جبکہ درخواست گزار نے کہا کہ کمپنی نے نئی بھرتیوں کا اشتہار دے رکھا ہے چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ پرانے لوگوں کو گھر بھیج کر نئی بھرتیاں کیسے کی جا رہی ہےں ،ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،کئی لوگوں نے کمپنی کو اپنی جوانی دی ہو گی اسے کیسے نکال سکتے ہیں،ادارے کے ساتھ ملازمین کے بھی برابر حقوق ہوتے ہیں ، اس پر ایم ڈی ٹی آئی پی نے موقف اختیار کیا کہ ان لوگوں نے ادارے کو تباہ کیا ہے موجودہ حالات کے ذمہ دار یہ ہی لوگ ہیں،کسی ادارے کی تباہی کے ذمہ دار چھوٹے نہیں بڑے ملازمین ہوتے ہی،ادارہ نئے لوگوں کو بھرتی کر کے چلایا جا سکتا ہے تو سابقہ ملازمین سے کیوں نہیں چلایا جا سکتا ،ملازمین کے حوالے سے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی جاتی ہے عدالت نے کیس کی سماعت دس مئی تک ملتوی کردی ۔