لاپتہ افراد کے حوالے سے سینیٹ کی جانب سے بھیجے گئے کیسز کی سماعت جے آئی ٹی تشکیل

کو ئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سر براہ جسٹس(ر) نوازش علی چوہان نے لاپتہ افراد کے حوالے سے کوئٹہ میں سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے کیس سمیت دیگر کیسز کی سماعت کی جس میں فریقین کو انصاف کی فراہمی کے لئے ڈپٹی کمشنر خضدار کی سر براہی میں جے آئی ٹی تشکیل دیدی گئی جو 5 مئی سے کوئٹہ میں روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کرے گی اس کے علاوہ ہزارہ خواتین کی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور نور محمد اور دیگر کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے محکمہ داخلہ کو 8 مئی تک مہلت دی ہے اور15مئی سے مذکورہ کیس کی سماعت کی جائے گی قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سر براہ جسٹس(ر) نواز ش علی چوہان نے خضدار سے لاپتہ ہونیوالے 2 بچوں کے حوالے سے سینیٹ آف پاکستان کی خصوصی ہدایت پر کوئٹہ میں کیس کی سماعت کی جس میں محکمہ داخلہ کے حکام نے سماعت کے دوران بتایا کہ مدعی خاندان کی ایف آئی آر درج ہے اور انہیں تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا لیکن یہ حاضر نہیں ہوئے مدعی کی جانب سے بتایا گیا کہ ہمیں چند گھنٹے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ آپ پیش ہو ہم خواتین ہونے کے ناطے اور ہمارے ساتھ مذکورہ علاقے میں اتنی بڑا سانحہ پیش آیا تھا ہم اتنی جلدی پیش نہیں ہو سکتی تھی جس پر عدالت نے ڈپٹی کمشنر خضدار کی سر براہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی ہے مذکورہ جے آئی ٹی روزانہ کی بنیاد پرکوئٹہ میں تحقیقات کرے گی کیونکہ خطرے کے پیش نظر خواتین کی سہولت کے لئے یہ کوئٹہ میں جے آئی ٹی کام کرے گی جسٹس نواز ش علی چوہان نے کہا کہ سینٹ کی جانب سے مدعی خاتون کی درخواست پر ہمیں خصوصی طور پر کوئٹہ بھیجا گیا ہے تاکہ ہم صورتحال کا جائزہ لیں اور اس میں کوئی کوتاہی یا مداخلت برداشت نہیں کرینگے انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے فرنٹیئر کور کا بیان کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا ہے جس کا جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد اس کو بھی دیکھا جائیگاانہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کرانی روڈ پر بس میں 4 ہزارہ خواتین کی فرقہ واریت کے حوالے سے ٹارگٹ کلنگ کا میڈیا میں شائع ہونیوالی خبر پر سوموٹو نوٹس لیا گیا تھا جس کے بعد آئی جی پولیس اور دیگر کو نوٹس دیا گیا وہ تا حال پیش نہیں ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ کمیشن نور محمد اور اس کے دیگر اہل خانہ زاہد بی بی ، شازیہ بی بی، رحمت اللہ خان، غلام رسول، غلام نبی، کے حوالے سے کیس کی سماعت کر رہے ہیں جس پر محکمہ داخلہ نے 8 مئی تک مہلت مانگی ہے تاکہ وہ تمام ایجنسیوں اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کر کے کمیشن کو رپورٹ دیں اس لئے ہم نے 15 مئی کو اس کیس کی سماعت رکھی ہے بدھ کو بھی قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے دفتر جناح ٹاﺅن میں دیگر کیسز کی سماعت ہو گی۔