چیف جسٹس (ن )لیگی وزراءکے میڈیا بیانات پر برہم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں کی میڈیا سے گفتگو پر چیف جسٹس آف پاکستان نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے،تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کے خلاف منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے حوالے سے دائر متفرق درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں کی میڈیا سے گفتگو پر شدید برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ سماعت سے پہلے لوگ میڈیا پر بات کرنا شروع ہوجاتے ہیں، پہلے کیس سے متعلق گراو¿نڈ رولز طے نہ کرلیں، جن شخصیت کا کیس سے تعلق نہیں وہ گفتگو کررہے ہیں، کیا آپ کے درمیان میڈیا سے گفتگو کے معاملے پر ضابطہ اخلاق طے ہے،اگرایسا نہیں توآپ خودآپس میں میڈیاسےگفتگو کے معاملے پرضابطہ اخلاق طے کریں۔سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا ایک اور تحریری جواب پڑھ کر سنایا۔ جس میں لگائے گئے الزامات کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار نے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لئے ان کے خلاف ایک جھوٹی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست گزار ان کی کردار کشی کرکے وزیر اعظم کو اپنااعتماد دلانا چاہتا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے میں ان کے ساتھ کھڑا ہے حالانکہ خود وزیر اعظم کی ساکھ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی انکوائری سے مشروط ہے۔جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ میں نے نیازی سروسز لمیٹڈ کا اعتراف کیا جس کا اب نام و نشان نہیں اور آف شور کمپنی بھی بند ہوچکی ہے جس کی ڈائریکٹرز عظمی خان اورحلیمہ خان تھیں جب کہ آف شور کمپنی کا ٹیکس نیو جرسی میں جمع کرایا جاتا تھا۔ درخواست گزار بذات خود ایفی ڈرین کیس میں نامزد ملزم ہے لیکن وہ دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔ میرے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن بھی خارج کرچکا ہے، اس لئے عدالت سے استدعا ہے کہ پٹیشن خارج کی جائے۔نعیم بخاری نے اعتراض کیا کہ درخواست میں نیب کو کارروائی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی حالانکہ نیب کو درخواست میں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب کو فی الحال سننے کی ضرورت بھی نہیں، عدالت جب چاہے فریق بنا سکتی ہے، ضروری ہوا تو نیب کو بھی بلا لیں گے لیکن صرف ضروری افراد اور اداروں کو فریق بنائیں گے۔سماعت کے دوران حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی فریق بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی پارٹی چلا رہے ہیں، اس لئے وفاق کو وزارت داخلہ کے ذریعے فریق بنانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے اکرم شیخ کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو فریق بنانے کی استدعا منظور کر لی۔مسلم لیگ(ن) کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل میں کہا کہ عمران خان 1982 میں ٹیکس فائلر بنے،1983 میں 107000 پاو¿نڈز فنڈز ظاہر نہیں کیے اور اس فنڈز سے فلیٹ خریدا گیاجب کہ نیازی سروسز 1983 میں بنی اور 30 جون 2015 تک قائم رہی،عمران خان نے اس عرصے کے دوران 2 الیکشن لڑے مگر کمپنی ظاہر نہیں کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ ظاہر نہ کرنا بدنیتی تھی۔ چیف جسٹس کے استفسار پر اکرم شیخ نے کہا کہ مشرف دور میں ایمنسٹی اسکیم آئی اور پیسہ وائٹ کرتے ہوئے انہوں نے کمپنی ڈکلیئر نہیں کی، یہ کمپنی انکم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنا تھی جب کہ بینی فیشل مالک وہ ہوتا ہے جس کو کمپنی سے فائدہ پہنچے۔اکرم شیخ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ سوالیہ نشان ہے، ایک موقف میں عمران خان نے لندن فلیٹ فروخت کر کے بنی گالا اراضی خریدنے کا کہا، دوسرے موقف میں عمران خان نے جمائما سے ادھار لے کر بنی گالا اراضی خریدنے کا کہا جس پر جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ اگر کوئی لمٹیڈ کمپنی جائیداد خریدے تو کیا سب شئیر ہولڈرز کو اسکا ظاہر کرنا ہوگا جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ میرے خیال سے شئیر ہولڈرز کو اس جائیداد کو ظاہر کرنا ہوگا۔اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان بنی گالہ میں جائیداد خریداری پر 3 موقف دیتے ہیں، ایک بیان میں خود خریدنے کا کہا اور دوسرے موقف میں عمران خان کی اہلیہ نے3دسمبر 2014کو جائیداد عمران کے نام کرنے کی پاور آف اٹارنی دی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں عمران خان کے موقف کے بجائے اپنا موقف بتائیں۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت سے باہر کوئی غیر متعلقہ شخص بیان بازی نہیں کرے گا، دنیا میں جو مروجہ قوانین ہیں وہی ہم نے بھی اپنانا ہیں تاہم زبانی حکم نہ مانا گیا تو اس کے اثرات ہوں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں