‘ بہت تحمل سے کام کررہے ہیں ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، جسٹس اعجاز افضل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے پانامہ پرجے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ایک سیاسی رہنما نے کہا کہ پانچوں ججز نے وزیراعظم کو جھوٹا کہا ہے‘ اس سیاسی رہنما نے جھوٹ بولا اور لوگوں کو دھوکہ دیا‘ میں نے وزیراعظم کو جھوٹا نہیں کہا‘ آئندہ ایسا ہوا تو کٹہرے میں لائیں گے‘ تمام افراد کو وارننگ دے رہے ہیں خود کو لیڈر کہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں‘زمین پھٹے یا آسمان گرے قانون کے مطابق چلیں گے‘ کون کیا کہتا ہے ہمیں کوئی سروکار نہیں‘ بہت تحمل سے کام کررہے ہیں ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس فیصلے پر جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران سٹیٹ بنک اور ایس ای سی پی اسروں کی فہرستیں عدالت میں پیش کردی گئیں ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ارسال کئے گئے ناموں کی تصدیق کرائی ایسے لگا جیسے ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہو۔ ناموں کی سیاسی وابستگی سے متعلق منفی رپورٹ ملی ۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ ایک سیاسی رہنما نے کہا کہ پانچوں ججز نے وزیراعظم کو جھوٹا کہا ہے آئندہ ایسا ہوا تو ہم کٹہرے میں لائیں گے۔ میں نے وزیراعظم کوجھوٹا نہیں کہا۔ ایک سیاسی رہنما نے وہ کہا جو ہم نے کہا۔ اس سیاسی رہنما نے جھوٹ بولا اور لوگوں کو دھوکہ دیا۔ زمین پھٹے یا آسمان گرے قانون کے مطابق چلیں گے۔ کون کیا کہتا ہے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ بہت تحمل سے کام کررہے ہیں ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ سوشلمیڈیا اور میڈیا کو قابو کرنا آتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ تمام افراد کو وارننگ دے رہے ہیں خود کو لیڈر کہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت آنے سے پہلے محکموں نے خود نام جاری کردیئے اداروں کے سربراہان ہوش مندی کا مظاہرہ کریں ‘ متنازعہ تحقیقاتی کمیٹی کا فائدہ کسے ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں