گوجرانوالہ کے تھیٹرز میں ذومعنی فقروں کی ادائیگی,رشتوں کی تذلیل معمول

گوجرانوالہ(مانیٹرنگ ڈیسک)سٹیج ڈراموں میں فحش ڈانس کرنے اور ذو معنی فقروں کی ادائیگی کرنیوالے فنکاروں پر پابندی عائد کرنے کیلئے آرٹس کونسل ، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور مانیٹرنگ ٹیموں کے پاس کوئی اختیار نہیں ، گوجرانوالہ کے تھیٹر ہالز میں شائقین نے ڈانسرز پر نوٹ لٹانا معمول بنا لیا ، سٹیج ڈراموں میں آرٹس کونسل کی جانب سے منظور شدہ سکرپٹ کی پابندی نہیں کی جاتی ، فنکار نہ صرف ذو معنی فقروں کی ادائیگی کرتے ہیں بلکہ طنزو مزاح کے دوران انسانی رشتوں کی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔ گوجرانوالہ میں سٹیج ڈراموں میں کام کرنیوالے کسی فنکار پر رواںسال کے دوران پابندی نہیں لگائی گئی جس کی بڑی وجہ متعلقہ اداروں کے پاس اختیارات کا نہ ہونا ہے۔ سٹیج ڈراموں میں کہانی کے مطابق چار گانوں کی ا جازت ہے تاہم چار کے بجائے مختلف تھیٹرز پر 8 سے 10گانے پیش کئے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر محمد حلیم نے بی این پی کو بتایا کہ آرٹس کونسل ، ضلعی انتظامیہ اور مانیٹرنگ ٹیموں کے پاس ذو معنی فقروں کی ادائیگی اور فحش ڈانس کرنیوالی فنکاراﺅں پر پابندی عائد کرنیکا کوئی اختیار نہیں تاہم کسی غیر اخلاقی حرکت جو آفیسر خود دیکھے اس پر متعلقہ فنکار کیخلاف مقدمہ درج کروایا جا سکتا ہے ، فنکار پر پابندی لگانے کا اختیار صرف صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔ ایشیا تھیٹر میں گزشتہ دنوں ایک ڈرامے میں سٹیج ڈانسر کے گانے کے دوران شائقین نے نوٹ لٹائے جس پر جھگڑے کے بعد ہوائی فائرنگ کی گئی ، ایسے واقعات کی روک تھام پولیس کا کام ہے تاہم اس بارے میں کیس کارروائی کیلئے کمشنر کو بھجوا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سٹیج ڈانسرز نیہا چودھری، انجلی رائے ، خواہن رائے ، غزل راجہ، ارم چودھری، بابرہ علی اور نیہا علی کا کہنا تھا انہیں سکیورٹی فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے ، سکرپٹ کے مطابق ہی پرفارم کرتے ہیں ، چار گانوں کی اجازت ہے اس سے زائد نہیں ہوتے اگر کہیں خلاف ورزی ہوتی ہے تو انتظامیہ اور آرٹس کونسل کو کارروائی کرنی چاہئے۔