بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب، 23لاکھ بچیاں ماؤں کے پیٹ میں قتل

کراچی (ویب ڈیسک) میں صرف پانچ برس میں 23 لاکھ بچیاں رحم مادر میں قتل کی گئیں۔ 95 لاکھ حاملہ خواتین نے سرکاری ہسپتال میں خود کو رجسٹرڈ کرایا تاہم چند ماہ بعد بچے کی جنس معلوم ہونے پر 23 لاکھ خواتین نے اسقاط عمل کرا لیا۔ اس حوالے سے بھارتی آڈیٹر جنرل (CAG) نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2011ءسے 2016ءتک پانچ سال کے عرصے میں بھارتی ریاست راجستھان میں 23 لاکھ حاملہ خواتین خود کو ہسپتالوں اور کلینکس میںرجسٹرڈ کروانے کے بعد غائب ہوگئیں جس سے یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ 23 لاکھ لڑکیوں کو رحم مادر میں قتل کردیا گیا۔ آڈریٹر اینڈ کنٹرولر جنرل نے اپنی 2016ءکی آڈٹ رپورٹ میں ان واقعات کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومت کو اس پر فوری ایکشن لینے کی سفارش کی ہے۔ آڈیٹر جنرل کے ادارے نے راجستھان میں رحم مادر میں ہلاک کی جانے والی لاکھوں لڑکیوں کے بارے میں انسانی حقوق او خواتین کے حقوق کی تنظیموں کی شکایات پر ایک منظم آڈٹ کا اہتمام کیا تھا۔ اس دوران آڈیٹرز کی متعدد ٹیموں نے راجستھان میں نیشنل رورل ہیلتھ مشن کے تمام ادروں کا دورہ کرکے وہاں سے 2011ءسے 2016ءکے دوران خود کو رجسٹرڈ کرانے والی حاملہ خواتین کا ریکارڈ حاصل کیا تھا۔ اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ خود کو رجسٹرڈ کرانے والی دیہاتی خواتین چند ماہ تک چیک اپ کیلئے آتی رہیں لیکن اس کے بعد ان خواتین کے بارے میں کوئی اتا پتا نہیں لما کہ وہ یہاں زچگی کیلئے کیوں نہیں آئیں۔ اس سلسلے میں راجستھان میں خواتین کے تحفظ کیلئے کار گزار متعدد تنظیموں نے بتایا ہے کہ راجستھان میں بچوں کی جنس کے بارے میں پتا لگایا جاتا ہے اور جب یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ متوقع بچہ لڑکا نہیں لڑکی ہے تو اس لڑکی کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ یہ مذموم کام راجستھان میں ہزاروں ضمیر فروش ڈاکٹرز کررہے ہیں۔ سی بی سی کینیڈا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت میں پیدائش سے قبل بچے کی جنس معلوم کرنا ایک فیشن بن چکا ہے۔ لوگ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کی پیدائش میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جس کے سبب رحم مادر میں بچیوں کی ہلاکت کھیل بن چکا ہے۔ تاہم حکومت اس سلسلے میں کوئی ٹھوس ایکشن لینے کے بجائے معاملات کو جھوٹ سے تعبیر کرتی ہے۔ کینیڈین نیوز پورٹل سے منسلک صحافی لارا گلووسکی نے بتایا ہے کہ بھارت میں بچے کی جنس کا انتخاب وبائی صورت اختیار کرچکاہے اور اس کے نتیجے میں بھارتی معاشرہ میں لڑکیوں کا تناسب تیزی سے کم ہورہا ہے۔ پنجاب‘ راجستھان اور مدھیاپردیش میں ہر 240 لڑکیوں کیلئے محض 102 لڑکیاں موجود ہیں۔ راجستھان میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران نے آڈٹ افسران کے سوالات کے جواب میں تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق 2011ءسے 2016ءتک 5 سال میں نیشنل رورل ہیلتھ مشن میں پانچ لاکھ حاملہ خواتین کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا اور انہیں معمول کے میڈیکل چیک اپ کیلئے کارڈ بنا کر دیئے گئے تھے لیکن بھارتی حکام اس بارے میں کچھ بتانے سے قرصر ہیں۔ آڈیٹر جنرل اینڈ کنٹرولر نے اپنی رپورٹ میں بھارتی حکومت کو اس معاملے میں ذمہ دار قرار دیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا غائب ہوجانا حکومت کی کوتاہی ہے اور اس بات کا اعتراف بھی کہ بھارت دنیا بھر میں رحم مادر میں ہلاک کئے جانے والے بچوں اور نومولود بچوں کی تجارت میں سرفہرست کیوں ہے۔ راجستھان میں بھارتی رورل ہیلتھ پروگرام کے ڈائریکٹر نوین جین کا کہنا ہے کہ وہ ان معاملات سے آگاہی کیلئے کام کررہے ہیں اور کئی ایک ٹیموں کا گاؤں دیہات میں تقرر کیا گیا ہے کہ وہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مدد سے پتا چلائیں کہ 23 لاکھ خواتین کے بچے کہاں گئے۔ واضح رہے کہ بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح راجستھان میں بھی حکومت نے ”زنانی سر کھٹایو جنا“ نامی سکیم متعارف کروائی تھی جس کا مقصد خواتین میں بچوں کی درست پیدائش کا تناسب جانتا اور اس کی مدد سے خواتین کو مالی رقم ادا کرنا تھا۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اس نئے سکینڈل سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کی تمام ریاستوں میں رحم مادر میں ہلاک کئے جانے والے بچوں کی تعداد 50 لاکھ سالانہ سے زیادہ ہوسکتی ہے‘ جس میں سرفہرست ریاستیں مدھیا پردیش اور راجستھان ہیں‘ جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں