بھارتی شہری ڈاکٹرعظمیٰ کے معاملے میں ٹوئسٹ آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمیٰ اور پاکستانی شہری طاہر علی کی شادی کے معاملہ نیارخ اختیار کرگیا ہے اور ڈاکٹر عظمیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ گن پوائنٹ پر میری شادی کرائی گئی اور مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ،پاکستان شادی کرنے نہیں آئی تھی۔تفصیلات کے مطابق بھارتی شہری ڈاکٹر عظمیٰ اور پاکستان کے شہری طاہر علی کی شادی کے معاملے میں نیا ٹوئسٹ سامنے آگیا ہے اوربھارتی شہری نے مجسٹریٹ حیدر علی شاہ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے درخواست کی ہے کہ جب تک بحفاظت واپس نہیں چلی جاتی بھارتی ہائی کمیشن میں ہی رہوں گی اور ہائی کمیشن اپنی مرضی سے رکی ہوئی ہوں۔ڈاکٹر عظمیٰ نے 506 ضابطہ فوجداری کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ہائی کمیشن میں رکنے پر کسی نے زبردستی نہیں کی بلکہ مجھے واہگہ بارڈر سے نیند کی گولیا ں دے کر لایاگیا ،گن پوائنٹ پر شادی کرائی گئی اور مجھ سے میرا سارا سامان اور امیگریشن دستاویزات بھی لے لی گئیں۔عظمیٰ نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری طاہر سے دوستی تھی ،پاکستان کا ویزا شادی کے لئے نہیں بلکہ گھومنے پھرنے کے لئے لگوایا ،مجھے تو طاہر کے گھر والوں کی زبان بھی سمجھ نہیں آرہی تھی اور وہاں پر موجود بچے طاہر کو ابو بو پکار رہے تھے۔ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ جب تک واپسی کا انتظام نہیں ہوجاتا بھارتی ہائی کمیشن میں رہوں گی۔طاہر علی نے موقف اپنایا کہ 2016میری ڈاکٹر عظمیٰ سے ملائیشیا میں ملاقات ہوئی، ہمارا رابطہ رشتے میں تبدیل ہوگیا، یکم مئی کو عظمیٰ پاکستان آئی،3 مئی کو ہماری شادی ہوئی اور 5 مئی کو ہم نے فیصلہ کیا کہ بھارت جائیں گے۔مجسٹریٹ نے 11 جولائی کو سماعت ملتوی کردی ہے اور طاہر اس کے والدین،نکاح خواح ،رجسٹرار اور گواہان کو نوٹس جاری کردیا ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ تین دن سے بھارتی ہائی کمیشن میں موجود ہے۔