پیمرا ملازمین اور ان کے خاندان کی جان کو خطرہ ہے ، ابصار عالم ،

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے کہا ہے کہ پیمرا ملازمین اور انکے خاندان کی جان کو خطرہ ہے وزیراعظم آرمی چیف اور چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ معاملے کی تحقیقات کروائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے کہا کہ کچھ لوگ پیمرا کے عملے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پیمرا کے ملازمین کو تحفظ دینے کے لئے آرمی چیف کو خط لکھا ہے ۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس سے بھی درخواست کر رہا ہوں کہ ہمیں تحفظ دیا جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ جو بھی آواز بدل کر دھمکیاں دے رہا ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور ریاستی ادارے کے عملے کو دھمکیاں دینے والے کو سامنے لایا جائے۔ چیئر مین پیمرا نے کہا کہ اگر ہمیں تحفظ نہ دیا گیا تو ہمارے لئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ وزیراعظم سے ملاقات کا وقت نہ ملنے کی وجہ سے پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ اپنی اتھارٹی منوانے کے لئے ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے ۔ ریاست اگررملازمین کے لئے کھری نہیں ہو گی تو ملازم بھی کھڑا نہیں ہو گا۔ پیمرا کا کام صرف پوسٹ آفس کا رہ گیا ہے۔ چیئر مین پیمرا نے کہ اکہ میرے دو بھائی نظام مصطفیٰ میں شہید ہو چکے ہیں اور مجھے بتایا جا رہا ہے کہ اسلام کیا ہے اور ناموس رسالت کیا ہے جس نے بچپن میں ہی اپنے دو بھائیوں کو قبر میں اتارا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیمرا کو اختیار اپنے پاس رکھنا ہے تو پھر پیمرا کو بند کر دینا چاہیئے۔ اپنے ٹیم ممبرز اور ان کے خاندان کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ کچھ اینکرز نفرت انگیز مواد نشر کر رہے ہیں۔ پیمرا ملازمین میرے چبوں کی طرح ہیں وزیراعظم اور میرا دل بہت قریب ہیں۔ فاصلے پیدا نہیں ہو سکتے۔ چیئر مین پیمرا نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسمعاملے کو سپریم کورٹ لے کر جا رہے ہیں اور کچھ عرصہ میں مزید چینلز کے لائسنس دینا چارہے ہیں کام بہتر انداز میں سر انجام دینے کے لئے وفاق سے مدد مانگی ہے۔ زیر التواءکیسز کو جلد نمٹانے کے لئے سپریم کورٹ کوخط لکھا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ زیر التوا درخواستی جلد نمٹائی جائیں تمام ادارے آئین کے تحت پیمرا کی مد دکرنے کے پابند ہیں۔