ڈان لیکس کے مجرم کو سزا نہیں ملے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا،سید خورشید شاہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں تناؤ کے حوالے سے فوری قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اعتماد میں لیں،ہم وعدہ کرتے ہیں کہ گونوازگو کے نعرے نہیں لگیں گے،ڈان لیکس کے حقیقی مجرم کو جب تک سزا نہیں ملے گی تب تک یہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ اس میں براہ راست وزیراعظم ہاؤس ملوث ہے،پاکستان پیپلزپارٹی پانامہ لیکس کے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کو نہیں مانتی،پیپلزپارٹی آئی ایس پی آر کے ٹوئٹ کے ساتھ نہیں اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک ی سیکورٹی کے ساتھ کھیلے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خطرناک حد تک خراب ہوگئے ہیں،افغانستان نے مردم شماری کرنے والوں پر حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے حملہ کیا یہ مسئلہ نہیں کہ کس کے کتنے لوگ جاں بحق ہوئے،ہمارے ایران کے ساتھ آج تک ایسے حالات نہیں ہوئے جو آج ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا وزیر خارجہ نہیں ہے اور ہم دنیا میں اکیلے نظر آتے ہیں،فارن آفس کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آکر بریفنگ دینی چاہئے اور حکومت کو اس حوالے سے20کروڑ عوام کو جواب دینا چاہئے۔خورشید شاہ نے کہا کہ ڈان لیکس کے مسئلے کو آسان نہ سمجھا جائے اس پر ابھی تک اتفاق نہیں ہورہا مشاورت جاری ہے،اس میں وزیراعظم ہاؤس ملوث ہے جب تک اصل مجرم سامنے نہیں آتا تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کو پاکستان پیپلزپارٹی نہیں مانتی اور حکومت کو ڈان لیکس،پانامہ لیکس،ہمسایوں سے تعلقات،قرضوں کے حوالے سے جواب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ چےئرمین پیمرا نے جو پریس کانفرنس میں باتیں کیں وہ قابل فکر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔انہوں نے حساس اداروں کے بارے میں بھی ذکر کیا ان کی یہ باتیں قابل فکر ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ میں دعاگو ہوں کہ الیکشن2018ء میں ہوں اور حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے لیکن حکومت اداروں سے تصادم اور پنگے پے پنگا لے رہی ہے،سینیٹ کا الیکشن پاکستان پیپلزپارٹی جیت سکتی ہے اگر وہ پنجاب سے 25 نشستیں بھی لے لیں تو بھی ہم جیت سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی 1994ء میں انرجی کے مسائل کے حل کیلئے پالیسی لائی تھی جس کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا تھا،نوازشریف نے آکر اس پالیسی کو ختم کردیا اور ایم ڈی کو جیل میں ڈال دیا اگر وہ پالیسی رہتی تو آج ملک میں انرجی کے تمام مسائل حل ہوجائے اور ملک اندھیروں میں نہ ہوتا اور حکومت چار سال حکومت کے مزے لینے کے بعد اب بھی پاکستان پیپلزپارٹی کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے لیکن پاکستان کے عوام اتنے اندھیرے نہیں کہ وہ حقیقت کو نہ سمجھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں