را کی پاکستان کیخلاف نئی سازش ، خوفناک انکشافات سے ہر طرف ہلچل

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے ”را“ کی ایک اور سازش سامنے آ گئی، کراچی، حیدرآباد، سکھر اور بلوچستان میں سی پیک کو نشانہ بنانے کیلئے (را) اور این ڈی ایس نے مہاجر اور بلوچستان سے بھاگ کر (را) کے پاس جانے والے افراد پر مشتمل بلوچ اینڈمہاجر لبریشن آرمی بنانا شروع کردی ہے، اس کا باقاعدہ دفتر قندھار میں بنادیا گیا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق وہ تمام لوگ جن کو انڈیا کے اندر پاکستان کے خلاف کام کرنے کی ٹریننگ دی جاتی تھی جس میں ایم کیو ایم لندن اور براہمداغ بگٹی کے ساتھی شامل ہیں، کو افغانستان منتقل کرکے نہ صرف ٹریننگ دی جا رہی ہے بلکہ وہاں سے ان کو پاکستان کے اندر آپریٹ کرنے اور پاکستان میں دہشت گردی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور وہاں پر باقاعدہ دفتر بنوا کر بلوچ اینڈ مہاجر لبریشن آرمی کا نام دیا گیا ہے۔ ایک گروپ کو ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ کراچی، حیدرآباد، سکھر میں دہشت گردی، مذہبی و لسانی فسادات پھیلائے۔ دوسرے گروپ کو بلوچستان کے اندر دہشت گردی بالخصوص سی پیک کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیاہے اور غیرملکیوں سمیت اہم شخصیات بھی ان کے ٹارگٹ میں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق سندھ کے چار بڑے شہروں کراچی، سکھر، حیدرآباد اور میر پور خاص میں ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم حقیقی کے کچھ افراد بھی ان کے ٹارگٹ پر ہونگے تاکہ ان کو نشانہ بنا کر حالات خراب کیے جاسکیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق قندھار میں اس دفتر کو (را) اور این ڈی ایس مکمل سپورٹ کر رہی ہے اور افغانستان کے اندر بھارت کے وہ قونصلیٹ صرف اس نئی تیار کی جانے والی تنظیم کو فعال کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر ان کے ذریعے مختلف لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں، پاکستان کے حساس اداروں نے اس خوفناک سازش کے سامنے آتے ہی اس حوالے سے اپنا کام شروع کردیاہےلاہور (رپورٹ: حسنین اخلاق) انڈین خفیہ اداروں کاشدت پسند تنظیم داعش سے راوبط کا ایک بار پھر انکشاف،اٹلی میں چھ ارب روپے سے زائد مالیت کی ‘ٹراماڈال’ نامی منشیات کی پونے چار کروڑ گولیاں پکڑی گئیں۔ یہ کھیپ انڈیا سے کمبلوں اور شیمپو کی صورت میں چھپا کر بھیجی گئی تھی، اس دوا کا پہلا مقصد اسلامی دہشت گردی کی مالی مدد اور دوسرا جہادی جنگجوو¿ں کی مزاحمت بڑھانا ہے، اٹالین پولیس کا دعویٰ۔ دواگولیوں کی شکل میں لیبیا کے ساحلی شہر مصراتہ اور تبروک کے لیے تین کنٹینرز میں بھجوائی گئیں۔2015میں بھی انڈین کمپنیوں کے فروخت کردہ ڈیٹونیٹرز، دھماکہ خیز مواد اور اسے استعمال کرنے کے آلات کی بڑی کھیپ کوبانے(شام) اور اربل(عراق) سے دہشت گردتنظیم آئی ایس آئی ایس کے ٹھکانوں سے برآمد ہوچکیں ہیں۔بھارت کی سات کمپنیاں دہشت گردوں کو آلات حرب فروخت کرنے میں ملوث پائی گئیں۔اس حوالے سے بین الاقوامی دنیا کی خاموشی معنی خیز ہے۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل کی جانے والی کاروائیوںکے نتیجے میں اٹلی کی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ اسے ‘ٹراماڈال’ نامی دوا کی تین کروڑ 75 لاکھ گولیاں ملی ہیں جن کی مالیت بین الاقوامی مارکیٹ میں 75ملین ڈالربنتی ہے اور جنھیں اسلامی شدت پسنددوران لڑائی استعمال کرتے ہیں۔اٹلی کی پولیس کے مطابق یہ گولیاں کارگو کے ذریعے لیبیا بھیجی جا رہی تھیں۔ یاد رہے کہ ‘ٹراماڈال’ نامی منشیات دردختم کرنے والی دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔جبکہ اس کھیپ کے حوالے سے اٹالین پولیس کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا سے آئی تھی جسے پہلے دبئی اور پھر وہاں سے سری لنکا لے جایا گیاجس کے بعد اسے لیبیا کے لیے روانہ کیا گیا اور اس کے صرف دو ہی مقاصد ہو سکتے ہیںاس کا پہلا مقصد تواسلامی دہشت گردی کی کسی نہ کسی صورت میںمالی مدد ہے جبکہ دوسرامقصد جہادی جنگجوو¿ں کی قوت مزاحمت کوبڑھانا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ‘ٹراماڈال’ کے استعمال کا مقصد جنگجوﺅں میں وحشیانہ تشدد ابھارنا اور ‘ تنازعے کے دونوں جانب سفاکیت کو بڑھاوا دینے میں اپنا کردار ادا کرناہوتاہے۔عمومی طور پر’کیپٹاگون’ نامی ادویات کا مرکزی ترکیبی جزو ” ایمفی ٹامین “ہوتا ہے لیکن غیر قانونی منشیات ساز اکثر اس میں ”کے فین “یا دوسرے نشہ آورمادے شامل کردیتے ہیںجس سے’کیپٹاگون’ نامی ادویات کھانے سے جنگجوو¿ں کی لڑنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور وہ بے رحمانہ طریقے سے میدان جنگ میں اپنے مخالفین سے لڑتے ہیں۔بین الاقوامی طور پر یہ دوانہ تو کسی بھی فوج کو فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی ایسی دوا کسی حال میں بھی حالت جنگ میں موجود فوجیوں کو تجویز کی جاتی ہیں۔ یادرہے کہ اس سے قبل بھی 2014-16میںبھی ”کونفلیکٹ آرمامینٹ ریسرچ“ جوکہ اتحادی اورشامی افواج کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم کو ہتھیار فراہم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کررہے تھے نے جب عراق کے قصبوں ”ربیہ، کرک، موصل، تکرت“ اور” کوبانے “جوکہ شام کا اہم شہر ہے جس کا قبضہ اس شدت پسند تنظیم کے پاس تھا کے ٹھکانوں کو ان سے آزاد کروایا گیا تو وہاں سے دوران تلاشی بھارت میں تیار کردہ’ایمپروائزڈ ایکسپلوسوز ڈیوائس“جنہیں عرف عام میں ”آئی ای ڈیز“ کہا جاتا ہے برآمد کیں جو کہ انڈیا سے برآمد کی گئیں تھیں مزید تحقیق پر علم ہوا کہ سات انڈین کمپنیاں جن میں ”گلف آئل کارپوریشن، سولر انڈسٹریز، پریمیئر ایکسپلوسوز، راجھستان ایکسپلوسوز اینڈ کیمیکلز، چمونڈی ایکسپلوسوز، اکنامک ایکسپلوسوز، آئیڈیل ایکسپلوسوز اور نوکیا سولوشن اینڈنیٹ ورکس انڈیا“ شامل ہیں اس مذموم کام کو سرانجام دے رہی تھیں لیکن حیرت انگیز طور پر نہ تو ان کمپنیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی بھارتی حکومت نے ان کمپنیوں کے خلاف کو قدم اٹھایا اور یہ آج بھی دنیا بھر میں اپنا کام کررہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں