جھاڑو چلانے سے فلمیں بنانے تک کا یادگار سفر طے کرنے والی معروف پاکستانی شخصیت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) یوں توتاریخ میں کئی ایسے لوگوں کی مثالیں ملتی ہیں جنھوں نے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاری لیکن پھر ان کے حالات نے پلٹا کھایا اور وہ پرتعیش زندگی گزارنے لگے۔ لیکن اس وقت ایسے لوگوںکی زندگی زیادہ قابل تقلید ہوتی ہے جب وہ حال ہی میں کسی تقریب یا کسی ٹی وی پروگرام کے دوران اپنے حالات زندگی بتا رہے ہوں ۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں لیکن شوبز لائن میں ایک درخشاں مثال جو ابھر کر سامنے آئی ہے وہ ہیں “وار ” اور “یلغار “جیسی سپرہٹ فلموں کے ڈائریکٹر حسن وقاص رانا جن کا بچپن او ر نوجوانی کو دور تو کوئی ایسا قابل فخر نہیں تھا لیکن اس وقت وہ نہ صرف ملک کے کامیاب ڈائریکٹر ہیں بلکہ ایک کروڑ پتی آدمی بھی ہیں۔ نجی ٹی وی پروگرام میںاینکر واسع علی کو اپنی داستان حیات بتاتے ہوئے کہا کہ میں بچپن میں انتہائی نکما طالب علم تھا۔ گھر میں دو تمغہ امتیاز تھے لیکن مجھے پڑھائی سے کوئی علاقہ نہ تھا۔ میں نے بیرون ملک جا کر ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پارٹ ٹائم نوکری شروع کی تو مجھے پہلی بار جمعداد یعنی سویپر کی نوکری ملی۔ مجھے اسی یونیورسٹی میں جھاڑ و لگانا ہوتا تھا جہاں میں پڑھتا تھا ۔لیکن اس سے میرے اندر محنت کی رغبت پید ا ہوئی۔ اور میں رفتہ رفتہ اس مقام تک پہنچا۔پروگرام کے دوران اینکر نے انکشا ف کیا کہ حسن وقاص بیک وقت ٹینک چلانا، ہیلی کاپٹر اڑانا،بندو ق چلانا، کیمرہ آپریٹ کرنا، فلمیں لکھنا، پروڈیوس کرنا اور ہدایتکاری کرنا اور دیگر کئی صلاحیت کے حامل ہیں ۔ایسے لوگوں کو چھپا کر رکھنا چاہیے تاکہ ان کا فن دوسروں کوسکھایا جا سکے۔