یمن موت کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؛ اقوام متحدہ

آج یمن موت کے دہانے ہر کھڑا ہے جہاں کوئی پرسان حال نہیں ۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن اس وقت تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے جہاں یمن کو آفات کا سامنا ہے مگر دنیا خاموش تماشائی بنی یمن کو تباہ ہوتا دیکھ رہی ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ برائے امداد سٹیفن او برائن نے سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ یمن کو اس خوراک کے عظیم بحران سے نکالا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں بحران آ نہیں رہا بلکہ یمن بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن اس وقت محرومی اور وبا کا شکار ہے مگر دنیا کو کوئی پرواہ نہیں ۔ ان کا کہنا تھا: دنیا اس مسئلہ کی طرف جلد توجہ کرے اور یمنی عوام کو اس آفت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یمن پر نافذ کردہ جنگ کے باعث ایک کروڑ 70 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ تقریباً 70 لاکھ افراد قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال اپریل سے اب تک ہیضے کے باعث 500 یمنی لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 55 ہزار بیماروں میں سے ایک تہائی بچے ہیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے مارچ 2015 میں یمن کے حوثی قبائل کے خلاف فوجی کارروائی کا آعاز کیا تھا جس میں اب تک آٹھ ہزار بےگناہ افراد مارے جا چکے ہیں اور کئی ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ لوگ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے وبائی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں