پاکستان اتحاد میں شامل، اپنی فوج سعودی عرب سے باہر کہیں نہیں بھیجے گا ،مشیرخارجہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مشیر خارجہ سرتاج عزیزنے اعتراف کیاہے کہ حالیہ ریاض کانفرنس میں ہونے والے تقاریر سے فرقہ ورانہ تقسیم کا خدشہ بڑھا ہے تاہم سابق فوجی سربراہ جنرل( ر) راحیل شریف کی موجودگی سے پاکستان کو اپنے موقف کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی، اسلامی فوجی اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے نہ کہ کسی ملک جیسے کہ ایران کے خلاف ہے، پاکستان اس اتحاد میں شامل اپنی فوج سعودی عرب سے باہر کہیں نہیں بھیجے گا ، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغان خفیہ ایجنسی” این ڈی ایس “پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں جس کے ثبوت اقوام متحدہ میں بھی پیش کر دیئے ہیں ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان کے توجہ دلاو¿نوٹسزکاجواب دیتے ہوئے کیا۔پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر نے اپنے نوٹس میں ان اخباری اطلاعات پر تشویش ظاہر کی جس میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ اسلامی اتحاد محض خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم یا القاعدہ کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کسی رکن ملک کی درخواست پر باغی گروپوں کے خلاف حرکت میں لایا جا سکے گا۔ سرتاج عزیز نے کہاکہ پاکستان اس اتحاد میں شامل اپنی فوج سعودی عرب سے باہر کہیں نہیں بھیجے گا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ ریاض کانفرنس میں ہونے والے تقاریر سے فرقہ ورانہ تقسیم کا خدشہ بڑھا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی موجودگی سے پاکستان کو اپنے موقف کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ کسی ملک کے اندر کارروائی سے متعلق چیئرمین سینیٹ کے سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ مفروضے پر مبنی سوال ہے اور اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا ہے لیکن سعودی حکام کا شاید اشارہ یمن کی جانب تھا جہاں ایران کا بھی اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے ناکہ کسی ملک جیسے کہ ایران کے خلاف ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران کی جانب سے افغانستان بھارت گٹھ جوڑ پر توجہ دلاو نوٹس جمع کرایا گیا۔ سحرکامران نے کہا کہ جب سے مودی حکومت آئی ہے تو بھارت کا مقصد صرف دہشت گردی کو فروغ دینا ہے، بھارت اور افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہیں اور ننگرہار میں امریکی فضائی حملے میں 15 بھارتیوں کی ہلاکت اس گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔ اس پر سرتاج عزیز نے کہا کہ ان کی معلومات میں ایسی ہلاکتیں نہیں ہیں لیکن انہیں بھارت کی پاکستان میں جاری مداخلت پر تشویش ضرور ہے۔ انہوں نے کہاکہ ننگر ہار میں پاک افغان سرحد کے قریب بھارتیوں کی ہلاکت لمحہ فکریہ ہے، پہلے کلبھوشن کی گرفتاری اور اب ننگر ہار میں بھارتیوں کی ہلاکت سے پاکستان میں بھارتی مداخلت سامنے آ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کیخلاف اقوام متحدہ میں ثبوت دئیے، دنیا کو بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ مشیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ میں پندرہ طالبات کو شہید کیا گیا اور بھارتی فوج نے کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے اس فوجی افسر کو ایواڈ دینے کی بھی مذمت کی جس نے ایک کشمیری کو جیپ کے آگے باندھ دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں