مشال خان قتل کیس جے آئی ٹی کی انکوائری مکمل ، حیران کر دینے والی رپورٹ منظر عام پرآگئی

مشال خان قتل کیس کی جے آئی ٹی کی انکوائری رپورٹ مکمل ہوگئی‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مخصوص سیاسی گروہ کو مشال خان کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا‘ مشال یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں کے خلاف کھل کر بات کرتا تھا‘ مشال اور اس کے ساتھیوں پر لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت موجود نہیں‘ مخصوص گروپ کے لوگوں نے مشال خان کے خلاف اکسایا ‘ مشال خان کا قتل باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مشال خان قتل کیس کی جے آئی ٹی کی انکوائری رپورٹ مکمل ہوگئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشال خان کا قتل باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔ پی ایس ایف کے صدر اور یونیورسٹی ملازم نے واقعہ سے ایک ماہ قبل مشال کو ہٹانے کی بات کی تھی۔ مخصوص سیاسی گروہ کو مشال خان کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا۔ مشال یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں کے خلاف کھل کر بات کرتا تھا۔ مشال اور اس کے ساتھیوں پر لگائے گئے الزاما کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مخصوص گروپ نے لوگوں کو کو مشال خان کے خلاف اکسایا تشدد اور فائرنگ کے بعد مشال سے آخری بار ہاسٹل وارڈن کی بات ہوئی۔مشال نے کہا مسلمان ہوں کلمہ پڑھا اور ہسپتال پہنچانے کی التجا کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی اور نااہل افراد کی بھرتی سے یونیورسٹی کا نظام درہم برہم ہے یونیورسٹی میں رجسٹرار ‘ سکیورٹی افسر تک تمام عہدوں پر نااہل سفارشی لوگ تعینات ہیں۔ یونیورسٹی میں منشیات اور اسلحہ کا استعمال طالبات کا استحصال عام ہے۔ یونیورسٹی کے بیشتر ملازمین مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ چھان بین کی جائے واقعے کے دوران پولیس کردار پر سوالات موجود ہیں۔ بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کی نشاندہی کرکے کارروائی کی جائے۔ کیس میں ملوث 57ملزموں میں سے 54 گرفتار ہیں جن میں بارہ ملازمین شامل ہیں۔