بھارت میں جنسی زیادتی کا ایک اور افسوس ناک واقعہ سامنے آگیا

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں جنسی زیادتی کا ایک اور افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، نامعلوم افراد نے چلتے رکشے میں خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنا ڈالا ، اس دوران اس کے 9 ماہ کے بچے کو رکشے سے باہر پھینک دیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا، پولیس نے گینگ ریپ اور قتل کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ نئی دہلی کے مضافاتی علاقے گورگاون میں 29 مئی کو پیش آیا تھا۔گورگاون کے پولیس کمشنر سندیپ کھیروار کا کہنا تھا کہ ہم متعدد افراد سے تفتیش کررہے ہیں کیس میں پیش رفت کا امکان ہے جس میں کچھ گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔انھوں نے کہا کہ بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا اور اس کی والدہ کی عمر 19 سے 20 سال ہے۔متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس پر ریاست ہریانہ کے شمالی علاقے گورگاون میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنے والدین کے گھر جانے کیلئے ایک رکشے میں سوار ہوئی۔اس کا کہنا تھا کہ رکشے میں ڈرائیور کے ساتھ پہلے سے 2 افراد سوار تھے۔اس سے قبل بھارت کے علاقے گریٹر نوئیڈا میں جیوار-بلند شیر ہائی وے پر کچھ مسلح افراد نے ایک گاڑی پر حملہ کرکے ڈکیتی کے دوران 4 خواتین کو مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جبکہ مزاحمت پر ایک شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔گذشتہ ماہ کے اختتام پر ایک 23 سالہ خاتون کی لاش ملی تھی، جو 9 مئی سے لاپتہ تھی اور اسے گینگ ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ جمہوریت کے دعویدار بھارت میں خواتین کا تحفظ تاحال ایک مسئلہ ہے جہاں 16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا، بعد ازاں کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد وہ دم توڑ گئی تھی۔خیال رہے کہ بھارت میں ریپ، گینگ ریپ اور جنسی حملوں کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صرف 2015 میں نئی دہلی میں 2199 ریپ کے مقدمات کا اندراج ہوا۔بھارت میں پر سال 40000 ہزار ریپ کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ ان کیسز کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ بیشتر متاثرین کا تعلق ہندوں کی نچلی ذات دلت سے ہے، معاشرے میں ان کا استحصال ایک عام سے بات ہے۔