نواز شریف کے پاس کچھ نہیں رہا ،چیف جسٹس کے بیان نے ہلچل مچا دی

 سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاناما لیکس میں عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کو کسی قسم کی کلین چٹ نہیں دی، ن لیگ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے عدالت کو دبا میں لانا چاہتی ہے،نواز شریف کے پاس جے آئی ٹی کو جواب دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار محمد چوہدری نے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے عدالت کو دبا میں لانا چاہتی ہے۔انھوں نے کہا کہ کہ ‘موجودہ حالات میں نواز شریف کے پاس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو جواب دینے کے لیے کچھ بھی نہیں، لہذا اب ان کی جماعت کے رہنما ججز پر الفاظوں کے ذریعے حملے کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اصل میں تو وزیراعظم اسی دن مشکل میں پھنس گئے تھے جب پارلیمنٹ میں انھوں نے کہی گئی بات سے عدالت میں انکار کیا اور اب جب یہ معاملہ جے آئی ٹی کے پاس ہے تو قطری خاندان نے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا،لہذا یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ان کے پاس کسی قسم کی بھی منی ٹریل موجود نہیں۔افتخار چوہدری نے کہا کہ ‘ن لیگ وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے کی تصویر کو جواز بنا کر عدالت کی تضحیک کررہی ہے اور جو کچھ ان سے پوچھا گیا ہے اس کو چھایا جارہا ہے۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ جس طرح سے جے آئی ٹی کی سماعت کے دوران جوڈیشل اکیڈمی کے باہر کارکنان جمع ہوتے ہیں اس سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی کرسکتے ہیں، لیکن کوئی غلط فہمی میں نہ رہے’۔افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت 1997 جیسا ماحول بنایا جارہا ہے اور حکومت کسی نا کسی طریقے سے جے آئی ٹی ارکان کو دبا میں لاکر فیصلے کو اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے۔