شہزادہ حماد بن جاسم سے تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی کے دو اراکین قطر جائیں گے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کیس پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کے اس خط جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ اگر جے آئی ٹی چاہے تو قطر آکر ان کا بیان لے لے، کے بعد سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کو مطلع کیا ہے کہ قطری شہزادے کا بیان لینے کےلئے قطر جانا ضروری ہے۔ رجسٹرارآفس نے جے آئی ٹی کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد جے آئی ٹی کو کہا ہے کہ وہ تحقیقات بارے اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہے جس کے بعد جے آئی ٹی کے دو اراکین کو قطر بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پا نامہ لیکس کیس کی تحقیقات کے دوران سپریم کورٹ میں قطری شہزادے حماد بن جاسم کی جانب سے ایک خط پیش کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شریف خاندان سے ان کے پرانے کاروباری تعلقات ہیں ۔انھوں نے میاں نواز شریف کے ساتھ کاروبار میں شراکت کی اور نواز شریف کی ہی خواہش پر انھوں نے اس شراکت کے بدلے ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کو فلیٹس دیے۔ تاہم جب جے آئی ٹی نے 19مئی کو ان کو پیش ہونےکا خط لکھا تو انھوں نے جوابی خط میں لکھا کہ وہ پیش ہونا ضروری نہیں سمجھتے ۔ جس کے بعدجے آئی ٹی نے قطر جا کر شہزادہ حماد بن جاسم سے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا۔