مسلم لیگ (ن) کرائسز میں کبھی بھی ایک جماعت کے طور پر نہیں کھڑی رہ سکی، فواد چودھری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چودھری نے نجی ٹی وی پروگرام کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی یہ تاریخ رہی ہے کہ کبھی بھی ایک بحرانی کیفیت میں ایک جماعت کی حیثیت سے کھڑی نہیں رہ سکی ۔انھوںنے انکشاف کیا کہ جب 90میں نواز لیگ دو تہائی اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئی اور 93میں اسمبلیاں ٹوٹ گئیں تومیاں نواز شریف نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ دو تہائی اکثریت ختم ہوتے ہی کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو تو ضیاءالحق کے مارشل لاءکا سامنا کرنا پڑا۔لیکن مسلم لیگ (ن)کے ساتھ تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔مشرف کی ایمرجنسی جنرل ضیاءکے مارشل لاءجیسی تو بالکل بھی نہیں تھی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ لوگ کرائسز میں کس طرح کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس پر وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ کرائسز ہیں تو نہیں لیکن پی ٹی آئی اس ملک اور عوام کے اوپر کرائسز لانا چاہتی ہے۔ فواد چودھری نے دوبارہ جواب دیا کہ ایک ایم این اے تو اسی ہفتے ہم آپ سے لے لیں گے اور کرائسز آپ کے کرتوتوں سے آئے ہیں۔ جاوید ہاشمی کا ذکر کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ان کی دماغی حالت درست نہیں ۔ میری رانا ثناءاللہ سے گزارش ہے کہ اس پاگل کو ایک ٹکٹ دلوا دیں۔ جس پر رانا ثناءاللہ نے جواب دیا کہ پاگل تو پاکستان میں ایک اور آدمی بھی ہے ۔اینکر نے پوچھا کہ رانا صاحب وہ پاگل کون ہے تو صوبائی وزیر قانون نے جواب دےا کہ فواد کو پتہ ہے جس پر نیوز روم میں موجود تمام افراد ہنس پڑے۔