بہاولپور کے بعد نواز شریف کوئٹہ اور پاراچنار کیوں نہیں گئے؟اہم انکشاف ہو گیا

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ اگر کرپٹ وزیراعظم عہدے پر برقرار رہا تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی،مریم نواز سمیت شریف خاندان کو جے آئی ٹی میں گھسیٹنے کے قصور وار خود نواز شریف ہیں، 70سال میں سب سے زیادہ کرپشن شریف برادران نے کی ہے ، بہاولپور کے بعد نواز شریف کوئٹہ اور پاراچنار کیوں نہیں گئے؟،سانحہ احمد پور شرقیہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے،پورے پنجاب میں ایک بھی برن سنٹر نہیں جس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟، فوج سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد میں پاراچنار کا دورہ کروں گا۔وہ بدھ کو یہاں بنی گالہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے تے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی بین الاقوامی سازش کی جارہی ہے۔ جس کا آغاز دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہوا۔ پاکستان یہ لڑائی روکنے میں کردار ادا کرے، بہاولپور کے بعد نواز شریف کوئٹہ اور پاراچنار کیوں نہیں گئے؟ان کا کہنا تھا کہ فوج سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد میں پاراچنار کا دورہ کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ قوم نواز شریف کو مجرم تسلیم کرچکی ہے اور اگر کرپٹ وزیراعظم عہدے پر برقرار رہا تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر حملے کیے جارہے ہیں، جے آئی ٹی پر تنقید سپریم کورٹ پر تنقید ہے، حکومت نے عدلیہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو میری ایک کال پر پورا پاکستان باہر نکل آئے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف منی لانڈرنگ کے ملزم ہیں جن کے خلاف فوجداری تحقیقات ہورہی ہیں اور یہ کرپشن سے زیادہ سنگین جرم ہے، نواز شریف جے آئی ٹی میں 13 سوالات میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دے سکے۔ الٹا کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی میرے سوالات کا جواب نہیں دے رہی۔ مریم نواز سمیت شریف خاندان کو جے آئی ٹی میں گھسیٹنے کے قصور وار خود نواز شریف ہیں، انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے مرحوم والد اور بے چارے بچوں کو گھسیٹ لیا، حکومت جانتی ہے کہ فیصلہ اس کے خلاف آئے گا اس لیے جے آئی ٹی کو متنازع بنایا جارہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 70 سال میں سب سے زیادہ کرپشن شریف برادران نے کی ہے، 21 سال اقتدار میں رہے ایک ادارہ ٹھیک نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے چند سال میں خیبرپختون خوا میں پولیس کو ماڈل پولیس بنادیا، لیکن شریف برادران اور ان کے بچے صرف پیسہ بنانے میں لگے ہیں۔چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اداروں کو خریدنے میں ناکام ہوگئی تو سازش کا الزام لگادیا، فوج اور سپریم کورٹ پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں، کرپٹ وزیراعظم نواز شریف عہدے پر برقرار رہے تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد کمیشن بنانا ہے، بنیادی سہولیات پر پیسہ خرچ نہیں کیا جارہا، نواز شریف کا بیرونی دوروں کا یومیہ خرچہ 27 لاکھ روپے ہے، لیکن ان دوروں سے پاکستانیوں کو کیا ملتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ میر شکیل قوم کا مجرم ہے، مجرم کا ساتھی بھی مجرم ہوتا ہے، چور کو چوری میں مدد دینا جرم ہے، میڈیا کا کام خبر دینا ہے ایجنڈا سیٹنگ نہیں، جنگ جیو گروپ کے چیف ایگزیکٹیو اپنے میڈیا ہاو¿س کے ذریعے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔