ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چوکس رہا جائے‘شہبازشریف

لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے ہمہ وقت چوکس رہیں اورصوبائی و وفاقی محکمے آپس میں قریبی رابطہ رکھ کر کام کریں۔کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام تیاریاں ہر لحاظ سے پوری رکھی جائیں۔ضروری مشینری و آلات مکمل فنکشنل ہونے چاہئیں۔صوبائی، ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر فلڈ ایمرجنسی کنٹرول رومز 24 گھنٹے فنکشنل رکھے جائیں۔بارش کی صورت میں شہری علاقوں سے نکاسی آب کے حوالے سے انتظامات میں کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔وزیراعلیٰ نے شدید بارشوں کے باعث ہونیوالے مختلف حادثات میں جاں بحق ہونیوالے افراد کے لواحقین کیلئے مالی امداد میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے ورثاء کی مالی امداد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کردی گئی ہے جبکہ حادثات میں زخمی ہونیوالے افراد کیلئے بھی مالی امداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا ہیلی کاپٹر صوبائی کابینہ کمیٹی برائے فلڈ کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ کمیٹی برائے فلڈ کے اراکین دوروں کیلئے پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرسکیں گے اورکابینہ کمیٹی کو جب بھی ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہوگی اسے ترجیحی بنیادوں پر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان اقدامات کی منظوری یہاں 3 گھنٹے طویل ویڈیو کانفرنس کے دوران دی،جس میں مون سون اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کئے جانیوالے حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریاؤں میں پانی کی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے۔محکمہ موسمیات اگر مگر سے کام نہ چلائے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے موسم کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ موسمیات کیلئے بروقت ریڈار نہ خریدنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس واضح ہدایات کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ڈی واٹرنگ سیٹ اور دیگر ضروری مشینری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانی کو صاف رکھنے کی گولیاں اور سانپ کے کاٹنے کی دوا کا وافر ریکارڈ رکھا جائے۔ محکمہ صحت فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کی ٹیموں کو تیار رکھے اور ضروری ادویات کا سٹاک رکھاجائے۔جانوروں کی ویکسینیشن اور ان کے چارے کیلئے پیشگی انتظامات مکمل رکھے جائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء اور سیکرٹریز بھی ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کیلئے انتظامات کی نگرانی کریں گے اور اس ضمن میں صوبائی وزراء اور سیکرٹریز کو ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔ سیالکوٹ کے برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے۔ نالہ لئی سمیت دیگر نالوں کے اردگرد تجاوزات ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز حفاظتی پشتوں اور بندوں کے دورے کریں۔ ممکنہ سیلاب کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے صوبائی محکموں کی مکمل تیاری ہونی چاہیئے۔ کاغذی کارروائی نہیں چلے گی۔ پیشگی انتظامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا۔تھرڈ پارٹی آڈٹ کے سرٹیفکیٹس کی موقع پر جا کر چیکنگ کی جائے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبائی وزیر آبپاشی اور صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات اور متعلقہ سیکرٹریز غیر اعلانیہ دورے کرکے ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ لیں۔ وزیراعلیٰ نے پینے کے صاف پانی کا مناسب سٹاک رکھنے کی بھی ہدایت کی ۔محکمہ موسمیات نے موسم کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ صوبائی محکموں نے اپنے اپنے فلڈ ایمرجنسی پلان کے حوالے سے آگاہ کیا۔صوبائی وزراء رانا مشہود احمد، سید ہارون سلطان بخاری، شیخ علاؤالدین، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، سید زعیم حسین قادری، معاون خصوصی ملک احمد خان، وائس چیئرمین واسا ایم پی اے چوہدری شہباز احمد، چیف سیکرٹری، وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی، کمشنر پاکستان انڈس واٹر، کمانڈر انجینئر فور کور آرمی بریگیڈئیر عمر فاروقی، صوبائی محکموں کے سیکرٹریز و متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے سول سیکرٹریٹ سے اجلاس میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزراء ملک ندیم کامران، اعجاز اچلانہ، نعیم اختر بھابھہ، آصف منہیس ، امانت شادی خیل ،ڈویژنل کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام اپنے متعلقہ اضلاع سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔