سیشن ججز کا دورہ جیل‘ نے ایم این اے جمشید دستی کے جھوٹ کا پول کھول دیا

لاہور( ویب ڈیسک)تین سیشن ججوں نے ایم این اے جمشید دستی کے جھوٹ کا پول کھول دیا ۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ کے حکم کی روشنی میں انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا ،سیشن جج سرگودھا اور انسداد دہشت گردی عدالت ڈیرہ غازی خان کے جج نے اپنی تحقیقاتی رپورٹس ہائی کورٹ کو بھجوائی ہیں ۔ہائی کورٹ کو وصول ہونے والی ان ججوں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ جمشید دستی پر جیل میں تشدد اور بدسلوکی کے شواہد نہیں ملے،جمشید دستی نے جیل میں غیر انسانی سلوک، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور معیاری کھانا مہیا نہ کرنے کی شکایت کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے نوٹس لینے کی استدعا کی تھی جس پر چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ججز سے فوری رپورٹس طلب کی تھیں۔  انسداد دہشت گردی عدالت ڈیرہ غازی خان کے جج کی رپورٹ کے مطابق جمشید دستی کی جیل سے خطرناک چوہوں اور بچھووں کی موجودگی شواہد نہیں ملے، جمشید دستی کومعمول کے مطابق جیل میں رکھا گیا تھا جہاں چٹائی اور دری موجود تھی۔ جمشید دستی کوجیل میں بی کلاس کی بجائے عام قیدیوں والے سیل میں رکھا گیا تھا۔ سیشن جج سرگودھا اور انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کے جج کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جمشید دستی کی درخواست پر 30 جون کو انہیں بی کیٹیگری سیل میں رکھے جانے کا حکم دیا گیاجس پرعمل درآمد ہوگیا ہے ۔ جمشید دستی کا ڈیرہ غازی خان اور سرگودھا میں ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروایا گیا اور جس میں کسی بھی تشدد کے شواہد نہیں ملے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمشید دستی سے ان کے وکیل ،ماں ،بہن اور رشتہ داروں سمیت چالیس افراد نے جیل میں ملاقات کی ۔