مریم کے پروٹوکول پر 2 ہزار547اہلکاروافسر تعینات کئے گئے، اخراجات عوام کے ٹیکسوں سے ہوئے، آفتاب باجوہ

اسلام آباد(روز نامہ اوصاف) جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لئے آنیوالی شریف خاندان کی شخصیات کے پروٹوکول پر سرکاری خزانے سے تقریبا 2 کروڑ 18 لاکھ 86 ہزار 710 روپے سے زائد خرچ ہو چکے۔ تمام شخصیات ذاتی حیثیت میں پیش ہوئیں نہ کہ عہدیدار کے طور پر پیش ہوئیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی پر 2523 اہلکار و افسرا تعینات رہے، جس میں رینجرز، پولیس، سپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو، ایف سی، ٹریفک پولیس و دیگر اداروں کے ملازمین شامل ہیں۔ جن پر سرکاری خزانے سے تقریبا 38 لاکھ 39 ہزار روپے خرچ ہوئے جبکہ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف، نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار کی پیشیوں کے موقع پر 13500 اہلکار وافسرتعینات رہے، ان کے پروٹوکول پر تقریبا 1 کروڑ 35 لاکھ 41 ہزار 888 روپے کا خرچ آیا جو کہ سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔اعلی حکومتی شخصیات کے پروٹوکول پر جہاں سرکاری ملازمین و افسر تعینات رہے، وہاں وفاقی وصوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز، وزرائے مملکت، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز و دیگر افسران بھی ان کے پروٹوکول کے لئے جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے پہنچے، سرکاری پروٹوکول لیکر وفاقی وصوبائی وزراء، وزرائے مملکت و دیگر عہدیدارا اپنی سیاسی جماعت کے حق میں اور اپنے لیڈر کے حق میں نعرے لگانے کے لئے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے اور وہاں نعرے لگاتے رہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے خصوصی طور پر یہ احکامات دیئے گئے تھے کہ سکیورٹی بڑھائی جائ    اور انٹیلی جنس بیورو، سپیشل برانچ و دیگر ادروں کے افسران وملازمین کی خصوصی ڈیوٹیاں بھی لگائی گئیں اور ان کو مختلف اہم ذمہ داریاں دیکر رات گئے ہی تعینات کر دیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے قانونی ماہر و سیکرٹری سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن آفتاب باجوہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام اخراجات غریب عوام کے ٹیکسوں سے ہوئے ہیں، ان کو پروٹوکول کس حیثیت میں دیا گیا، اگر سکیورٹی خدشات تھے تو پہلے سکیورٹی کیوں نہ بہتر بنائی، صرف چند گھنٹوں کے لئے ہی سکیورٹی بہتر بنانا ضروری تھی، مسلم لیگ ن کے سیئر رہنما رانا ثںاء اللہ کہتے ہیں کہ جب کوئی عہدیدار ہو تو ان کو پروٹوکول دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور پروٹوکول مانگا نہیں جاتا حکام بعض معاملات کو دیکھتے ہوئے خود ہی سکویرٹی بہتر بناتے ہیں۔