وزیراعظم نے سوچ سمجھ کر خود کو عدالت میں پیش کیا،سعد رفیق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے سوچ سمجھ کر خود کو عدالت میں پیش کیا،جے آئی ٹی نے کام شروع کیا تو وٹس ایپ کا معاملہ سامنے آیا،سرکاری نمبر کی بجائے وٹس ایپ کال کیوں کی گئی،جے آئی ٹی کا طارق شفیع کیلئے رویہ دھمکی آمیز تھا،تصویر لیک کرنے والے کے نام پر خاموشی اختیار کی گئی، ایک فاضل جج نے منتخب وزیراعظم کیلئے گاڈ فادر کا حوالہ دیا،گاڈفادر ایشو کے معاملے پر عدالت جا سکتے تھے،مگر بدمزگی سے بچنے کیلئے ایسا نہیں کیا گیا۔وہ جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے آئین و قانون کی سربلندی کیلئے خاندان کو عدالت میں پیش کیا،وزیراعظم کو مشورہ دیا گیا تھا کہ عدالتی دائرہ کار کو چیلنج کریں مگر انہوں نے خود سپریم کورٹ سے کمیشن بنانے کی بات کی،سپریم کورٹ میں تینوں درخواستیں مسلم لیگ(ن) کے مخالفین کی ہیں،ان تمام سیاسی مخالفین کو ہمیشہ (ن) لیگ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وزیراعظم نے سوچ سمجھ کر خودکو عدالت میں پیش کیا تھا،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کام شروع کیا تووٹس ایپ کا معاملہ سامنے آ گیا،سرکاری نمبر کی بجائے وٹس ایپ کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کا طارق شفیع کیلئے رویہ دھمکی آمیز تھا،تصویر لیک کرنے والے کے نام پر خاموشی اختیار کی گئی،ایک فاضل جج نے منتخب وزیراعظم کیلئے گاڈ فادر کا حوالہ دیا،اعلیٰ فورمز سے اس طرح کے ریمارکس آنا ٹھیک نہیں، ہم گاڈ فادر کے ایشو پر عدالت جا سکتے تھے،مگر بدمزگی سے بچنے کیلئے ہم نے ایسا نہیں کیا۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ جے آئی جی قطری شہزادے کاقطر جا کر بیان ریکارڈ کیوں نہیں کرتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں