پولیس اہلکار کے بعد بلوچستان کی ایک غریب خاتون ٹیچر بہت بڑے ظلم کا نشانہ بن گئی۔۔۔لیکن پوچھنے والا کون؟؟؟

جعفر آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے پسماندہ ترین صوبے بلوچستان میں روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم کو مرکزی حکومت کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا سلسلہ تو کئی دہائیوں پر محیط ہے تاہم ابتدا ء ہی صوبے کے اپنے حکام اور انتظامی افسران بھی سر سے لے کر پاؤں تک اقربا پروری، سفارش ،رشوت ستانی اور کرپشن سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ جمہوریت کے اس دور میں بھی بلوچستان کا ایک عام آدمی بنیادی سہولیات اور انصاف سے اتنا ہی دور ہی جتنا صدیوں پہلے تھا۔ چند ہفتے قبل کوئٹہ کے ایک چوک پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکار کو ایک رکن صوبائی اسمبلی کی گاڑی نے روند ڈالا تھا اور معاملے کا آخر کار تنگ آکر چیف جسٹس کو ازخود نوٹس ہی لینا پڑ گیا۔ٹھیک ایسا ہی معاملہ ضلع جعفر آباد کی رہائشی ایک خاتون شمشاد علی کا ہے جنھوں نے یونین کونسل کی سطح پر جونئیر انگلش ٹیچر کی پوسٹ کیلئے اپلائی کیا تھا۔اوریونین کونسل علی آباد میں اول پوزیشن حاصل کی۔ تاہم کامیاب امیدواروں کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔انھوں نے قاعدے کے مطابق اس اقدام کے خلاف کمشنر نصیر آباد کی زیر سربراہی کمپلینٹ سیل میں اپیل کر دی ۔کمیٹی نے ان کے کیس کی سماعت کی اور انھیں ملازمت کیلئے اہل قرار دیتے ہوئے ایک لیٹر بھی جاری کر دیا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ انھیں انرول کر دیا جائے گااور کمیٹی کے فیصلے کی ایک نقل خاتون امیدوار کو بھی تھما دی گئی۔تاہم چھ ماہ گزرنے کے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر کمشنر آفس کے عملے نے ریکارڈ میں ردو بدل کرتے ہوئے شمشاد علی کی جگہ رابعہ نامی کسی امیدوار کا نام شامل کر دیا جبکہ رابعہ نامی یہ لڑکی اپیل کی سماعت کے موقع پر حاضر تک نہیں ہوئی تھی۔شمشاد علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک درخواست سیکرٹری تعلیم بلوچستان کے دفترمیں بھجوا دی ہے۔شمشاد علی کا کہنا ہے کہ انھیں محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کی لیٹرز کی صورت میں تائید تو حاصل ہے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ سیکرٹری ایجوکیشن بلوچستان نے کرنا ہے۔انھوں نے پاکستان لائیو نیوز کے توسط سے حکام سے اپیل کی کہ میرٹ کی پاسداری اور ان کی امتیازی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے ان کی بطور جے ای ٹی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں