عائشہ گلا لئی کو مشرف نے کس ” جرم” میں گرفتار کروا دیا تھا؟؟؟ خاتون ایم این اے کا چونکا دینے والا انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )انٹرویو میں عائشہ گلالئی نے کہا کہ ہمارا قبیلہ حامد زئی وزیر ہے اور ہمارا خاندان شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتا ہے ۔8 سال کی عمر میں بے نظیر بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی اور 2007 میں بے نظیر بھٹو نے مجھے سیاست میں آنے کی دعوت دی تھی ۔ پرویز مشرف کے مارشل لاء اور میڈیا پر پابندی کے خلاف میں نے خیبرایجنسی میں احتجاج کیا تھا جس کی وجہ سے مجھے گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ میرے سیاست میں آنے کی وجہ سے طالبان کی طرف سے مجھے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ میں پگڑی پہن کر یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ خواتین کو مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیے ۔ اس وقت تک پگڑی پہن کر رکھوں گی جب تک مجھے اور دیگر خواتین کو انصاف نہیں ملتا ۔ میں نے خواتین کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔ آئندہ کوئی مرد غلط رویہ رکھنے سے پہلے سو دفعہ سوچے گا ۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ کھیل اور نوجوانوں کو سپورٹ کرنا پی ٹی آئی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ماریہ طور پکئی نے ہسپتالکے لئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے زمین کی درخواست کی مگر انہوں نے نہیں دی ۔ماریہ اور عائشہ کے والد شمس القیوم وزیر نے کہا کہ میری بیٹیوں نے اپنے لئے سیاست اور کھیل کے میدانوں کا انتخاب خود کیا ۔ میں نے کبھی مداخلت نہیں کی ۔ بیٹیوں کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے مجھے تکالیف کا سامنا کرنا پڑا مگر میں نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی اور ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو سپورٹ کیا ۔ تمام مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔