پا کستان کن خطرات کی طر ف جا رہا ہے ؟ یہ صر ف 4 لو گ جانتےہیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں جن بیرونی خطرات کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سمیت صرف 4 لوگوں کو اس بارے میں پتا ہے ، اس کی کہانی سامنے آگئی ہے۔نجی ٹی وی 92 نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران جن بیرونی خطرات کا ذکر کیا تھا وہ در حقیقت امریکہ کی نئی افغان پالیسی ہی تھی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان سے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا کئی ماہ پہلے ہی پتا چل گیا تھا جس کے بعد انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو اعتماد میں لیا تھا، جبکہ سیاسی اور عسکری قیادت کئی ماہ سے پالیسی پر رد عمل تیار کر رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی نئی فغان پالیسی میں یہ بات طے ہے کہ وہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا بہانہ بنا کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ پہلے اپنی کارروائیاں پاک افغان سرحد کے قریب لے کر آئے گا جس کے بعد قبائلی علاقوں میں کارروائیاں کی جائیں گی۔واضح رہے کہ نواز شریف کی نا اہلی سے ایک روز قبل 27 جولائی کو سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کی صورت میں وزارت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی پریس کانفرنس میں چوہدری نثار علی خان نے پوری قوم سے اتحاد کی اپیل کی تھی اور حوالہ دیا تھا کہ پاکستان کو بہت سے بیرونی خطرات کا سامنا ہے اور پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرا جا رہا ہے، ان خطرات کے بارے میں ان سمیت صرف 4 لوگوں کو علم ہے۔