نوا ز شریف کو لندن میں وزیراعظم جتنا پروٹوکول،مقتدر حلقے حیران

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ کافی پرانا ہے لیکن کبھی بھی اہم ممالک نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔ میانمار میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا میں کہیں اس طرح کے ظلم کی مثال نہیں ملتی۔ تمام مسلم ممالک بھی غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ایٹمی طاقت پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ پارلیمنٹ، وزارت خارجہ کے بجائے سفیروں کی کانفرنس بلا لی گئی ہے کہ آپ بتائیں کہ امریکہ بارے کیا پالیسی اختیار کرنی ہے۔ مختلف ممالک میں کام کرنے والے سفیر اس حوالے سے کیسے مفید مشورہ دے سکتے ہیں امریکہ میں تعینات سفیر سے تو پوچھا جا سکتا ہے تاہم سفیروں کی کانفرنس بلانا سمجھ سے باہر ہے۔ وزیراعظم اب تک کھل کر بات نہیں کر سکے وزیرخارجہ رسمی بیان تک محدود ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی حکومت یا وزیراعظم کام کرتا نظر نہیں آ رہا کسی وزارت میں کوئی کام نہیں ہو رہا۔ سلامتی کونسل میں روہنگیا کی بات تو نہ کی گئی۔ کوریا کے مسئلہ پر بات ہوئی کہ ہائیڈروجن بم کے تجربات دنیا کیلئے خطرناک ہوں گے، امریکہ اور دیگر ایٹمی طاقتیں خطے میں ایک نئی ایٹمی طاقت کے ابھرنے سے پریشان ہیں۔ امریکہ کو ڈر ہے کہ شمالی کوریا اگر مضبوط طاقت بن گیا تو وہ ان کے قدم جنوبی کوریا سے اکھاڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے بات ہی کر لے۔ 34 اسلامی ممالک کا اتحاد بھی خاموش ہے۔ پاکستان ایٹمی پاور ہونے کے باوجود کوئی سخت بیان تک نہ دیا جبکہ وہاں مسلمانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس معاملے پر خاموش ہیں حالانکہ یہ معمولی حادثوں پر واویلا کرتی نظر آتی ہیں۔ چین ایسا ملک ہے جو برما پر اثر انداز ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے لیکن وہ اس لئے خاموش ہے کہ برما کے سمندر میں وہ ایک بڑی بندرگاہ بنانے کے چکر میں ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پاکستان حکومت کا غوروخوص ہی ختم نہیں ہو رہا کہ کیا پالیسی بنائی جائے شاید یہ غور ایک ماہ تک جاری رہے اور روہنگیا مسلمان اتنی دیر میں ایسے ہی گاجر مولی کی طرح کٹتے رہیں یہ شرمناک رویہ ہے جو ایک ایٹمی مسلمان ملک نے اپنا رکھا ہے۔ سعودی عرب نے بھی ایسی ہی خاموشی اختیار کر رکھی ہے کچھ اور نہیں تو ان مظلوموں کی مالی امداد ہی کر دیتے۔ اقامہ کی بنیاد پر نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا بیگم کلثوم نواز پر بھی اقامہ رکھنے کا الزام ہے اگر اس کے باوجود انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ تضاد ہو گا۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جن جج صاحب کے پاس یہ رٹ دائر ہوئی تھی ان کے اپنے پاس ہی اقامہ موجود تھا اس لئے انہوں نے یہ کیس سننے سے انکار کر دیا جس کے بعد 3 ججز پر مشتمل بن تشکیل دیا گیا ہے جو آج یہ کیس سنے گا۔ نوازشریف بھی واپس آ رہے ہیں۔ دعا ہے کہ حالات پرامن رہیں اور الیکشن بھی امن و امان سے ہو جائیں کیونکہ حالات اچھے نظر نہیں آ رہے۔ بیگم کلثوم نواز کو بھی بطور امیدوار نااہل قرار دیدیا گیا تو اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے دفاتر کے باہر فائرنگ کے واقعات بھی افسوسناک ہیں چیف الیکشن کمشنر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وعظ کرنے کے بجائے ایکشن لیں، جیسی باتیں وہ کر رہے ہیں کیا انہیں زیب دیتی ہیں ڈر ہے کہ این اے 120 میں کوئی جانی نقصان نہ ہو جائے، ڈاکٹر یاسمین راشد اور مریم نواز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہے اور ن لیگ کے لئے اس نشست کو حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ضابطہ اخلاق کے تحت بڑے اختیارات ہیں۔ اب انہیں اس کی بنیاد پر قانونی و آئینی اختیار بھی حاصل ہے۔ ان حالات میں الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلال یاسین کو بھی نااہل کر سکتا ہے اور ن لیگ کی رجسٹریشن بھی معطل کر سکتا ہے اس کے پاس اتنے اختیارات موجود ہیں، ن لیگ کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے۔ اب حالات بدل گئے ہیں الیکشن کمیشن نے اپنی ساکھ کو مضبوط کرنا ہے کیونکہ ایسا نہ ہوا تو وہ اگلے الیکشن کرانے کا اہل نہ ہو گا کیونکہ تمام پارٹیاں عدم اعتماد کر دیں گی چیف سیکرٹری پنجاب کی ذمہ داری اس حوالے سے سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس کے تحت تمام ادارے کام کر رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے عامیانہ بیان پر مایوسی ہوئی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ایسے ہے کہ اگلے الیکشن موجودہ الیکشن کمیشن کے تحت نہیں ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے جس طرح کا بیان دیا ہے اس کے بعد اگر حکومتی جماعت ضمنی الیکشن جیت گئی تو تمام پارٹیاں اس کا گھیراؤ کر لیں گی، عدم اعتماد کر دیں گی قومی اسمبلی و سینٹ میں موجودہ الیکشن کمشنر کے خلاف قراردادیں پیش ہو جائیں گی۔ اتنے اختیارات ہونے کے باوجود الیکشن کمشنر نے انتہائی کمزور بیان دیا۔ حکمران جماعت شکست کے خوف کے باعث الیکشن رکوانے کے لئے کوئی حادثہ بھی کرا سکتی ہے۔ لندن میں خبریں کے نمائندہ وجاہت علی خان نے کہا کہ روہنگیا کے معاملہ پر پاکستان حکومت کو بڑا سخت بیان دینا چاہئے تھا سفیروں کی کانفرنس بلانے کا کیا جواز ہے۔ سعودی عرب میں 34 اسلامی ممالک جو اتحاد ہوا تھا ان کا روہنگیا کے معاملے پر بیان آنا چاہئے تھا۔ نام نہاد مسلم امہ بھی خاموش ہے۔ عالمی میڈیا پر کچھ آرٹیکل لکھے گئے تاہم اس طرح سے روہنگیا مسلمانوں کی بات نہیں اٹھائی گئی جیسے ہونا چاہئے تھی۔ دنیا میں کہیں 10 بندے مر جائیں تو عالمی میڈیا آسان سر پر اٹھا لیتا ہے لیکن روہنگیا میں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ کوئی انسانی حقوق کی تنظیمیں یا اسلامی تنظیمیں بھی آواز نہیں اٹھا رہیں۔ بیگم کلثوم نواز کو گھر شفٹ کر دیا گیا ہے۔ عید پر ہائی کمیشن پاکستان کی چھٹی تھی تاہم حیرت انگیز طور پر کمیشن کھول کر نوازشریف کو وہاں عید کی نماز پڑھوائی گئی۔ کسی صحافی کو اندر نہ جانے دیا گیا۔ ہائی کمشنر پر بھی تنقید ہوتی رہی کہ نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا ایم این اے بھی نہیں ہیں تو پھر کس حیثیت سے اتنا پروٹوکول دیا گیا۔ نوازشریف نے نماز عید کے بعد کسی صحافی کے سوال کا بھی جواب نہ دیا۔