پاکستان کی سرحدوں پر خطرات منڈلارہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی(نیوز ڈیسک ) پاک کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان اہم ترین ملک ہے اور ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گرد کے خلاف جنگ میں کچھ سالوں میں کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف 40 سال جنگ لڑی اور اب یہ آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف کیا کردار کیا یہ بات سب کو معلوم ہے، ماضی میں امریکا اور مجاہدین کے ساتھ مل کر سودیت یونین سے جنگ لڑی تاہم بعد میں یہ جنگ پاکستان میں کس طرح منتقل ہوئی یہ بات بھی سب کے سامنے ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد یا تنظیم کا ٹھکانہ پاکستان میں موجود نہیں اور کامیاب آپریشنز کے بعد مغربی سرحد پر موجود فوج کا کچھ حصہ چھاؤنی میں واپس منتقل کردیا گیا۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مغربی سرحد ایران کے ساتھ بھی ہے جبکہ مغربی سرحدوں پر فوج افغانستان اور ایران کے خلاف لرنے کے لیے موجود نہیں تاہم طالبان اور داعش کےخطرات کے باعث مغربی سرحد پر خطرات ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے 2 لاکھ فوجی مغربی اور 1لاکھ فوجی مشرقی سرحد پر تعینات ہیں۔انہوں نے کسی کسی نشاندہی کیے بغیر کہا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔رواں سال ماہ محرم الحرام کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں اس سال محرم بہت پر امن گزا اور اس سال محرم میں دہشت گردی کے بڑے خطرات تھے۔انہوں نے محرم الحرام میں ملک کی سیکیورٹی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا کہ محرم میں کراچی میں دہشت گردی کا بڑا خطرہ تھا، اس کے باوجود محرم کے دوران بوہرا برادری سے تعلق رکھنے والے 21 ہزار سے زائد غیر ملکی زائرین کراچی آئے۔انہوں نے کہا کہ محرم کے دوران ملک بھر میں 38 بٹالین تعینات کی گئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں