ملک دشمن غیر سیاسی عناصر سے سمجھوتہ، مذاکرات کیوں کئے؟ شیریں مزاری

اسلام آباد(رپورٹ/ملک راشد اعوان ) وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ خون خرابے سے بچنے کے لیے صلح پسندی پ±ر امن احتجاج کے نظریے کو متاثر کر سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ صلح پسندی سے پ±ر امن احتجاج کا نظریہ متاثر ہو سکتا ہے۔صلح پسندی کی پالیسی سے غیر ریاستی عناصر کے لیے خطرناک پیغام پہنچا۔انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کہتی ہیں کہ خون خرابے سے بچنے اور صلح پسندی کی پالیسی سے غیر ریاستی عناصر کے لیے خطرناک پیغام پہنچا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو قانون کی عمل داری قائم کرنی چاہیے، یقین ہے وزیرِ اعظم قانون کی حکمرانی کا عزم پورا کریں گے اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔وفاقی وزیر شیریں مزاری نے یورپ کی تاریخ سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نازیوں کے ساتھ صلح کی بات سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا، جنگ سے خوف زدہ یورپ نے خون خرابے سے بچنے کے لیے صلح پسندی اختیار کی لیکن
اس کا نتیجہ دوسری جنگِ عظیم کی تباہی کی صورت میں نکلا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں