ایوانوں میں کرپشن کی بات کرو تو مخالفین کے مزاج بگڑ جاتے ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد : وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم29نومبر کو سو روزہ پروگرام سے متعلق حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے، حکومت ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لئے پرعزم ہے۔یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان معاشی دہشت گردی کا شکار رہا ہے، بابا فرید شکرگنج کی زمین بھی سابق حکومت بیج کرکھا گئی۔ایوانوں میں کرپشن کی بات کرو تو مخالفین کے مزاج خراب ہوجاتے ہیں، چوری کامعاملہ اٹھائیں تو ایوان نہ چلنے کی دھمکی دی جاتی ہے، بلوچستان جانے والا اربوں روپیہ کہاں گیا؟انہوں نے کہا کہ بیرون ملک قیدی پاکستانیوں پر وزیراعظم کو بڑی تشویش ہے، بیرون ملک قید پاکستانیوں کو قانونی معاونت دینا حکومتی ذمےداری ہے، حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے لئے پرعزم ہیں، ان کو وطن واپس لانے کی ہرممکن کوشش کریں گے، میڈیا کو فنڈز ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد میڈیا کو فوری ریلیف ملے گا، یہ نہیں ہوسکتا کہ میڈیا حکومت کے پیسوں سے اپنا کاروبار چلائے، میڈیا کو بزنس ماڈل بدلنا ہوگا۔فواد چوہدری نے کہا کہ گندم قیمت برقرار رکھی گئی ہے، ایک ملین ٹن گندم حکومت کے پاس ہے، یوریا اور کھاد کے مسائل کو کابینہ نے دیکھا ہے،50ہزار ٹن یوریا کو امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی رولنگ سے متعلق بھی کابینہ میں بات ہوئی ہے، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ وفاقی وزیرکی تضحیک کرے، وزیراعظم نے پرویزخٹک کو معاملے کاجائزہ لینے کی ہدایت کی ہے، عمران خان کی سیاسی بات کو عوام مثبت انداز میں لیتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ کے رویے پر حکومت کو افسوس ہے، وفاقی کابینہ کے بغیر سینیٹ کارروائی چل سکتی ہے تو چیئرمین بتادیں، میں منتخب ہو کر آیا ہوں، چیئرمین سینیٹ منتخب ہو کر نہیں آئے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پی اے سی چیئرمین کے لئے اپوزیشن کا شہبازشریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے کا مطالبہ غیر اخلاقی ہے، نواز شریف دور کے منصوبوں کا آڈٹ شہبازشریف کیسے کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا بیوروکریسی سے متعلق مؤقف واضح ہے، بیورو کریسی کو سیاسی اثرو رسوخ سے بچانا ضروری ہے، پالیساں بنانا حکومت کا کام اور ان پر عملدرآمد کرانا بیورو کریسی کی ذمےداری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں