سندھ میں جنگلات کی ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمین بااثر افراد کو الاٹ


کراچی(نمائندہ خصوصی)صوبہ سندھ میں جنگلات کی ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کر کے زمین با اثر سیاسی افراد کو الاٹ کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات سندھ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں جنگلات کی ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاکھوں ایکڑ جنگلات کی زمین با اثر سیاسی افراد کو الاٹ کردی گئی ہے جن کا تعلق سندھ کے مختلف شہروں سے ہے۔محکمہ جنگلات نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ کے شہر دادو میں 27 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین پر بااثر افراد کا قبضہ ہے، سکھر رینج میں جنگلات کی 23 ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔اسی طرح شکار پور، لاڑکانہ، کھپرو اور خیرپور میں بھی جنگلات کی زمینوں پر مافیا قابض ہیں۔محکمہ جنگلات کے مطابق مافیا کے خلاف کیے جانے والے ا?پریشن میں صرف 15 ہزار 723 ایکڑ زمین واگزار کرائی جاسکی ہے۔خیال رہے کہ سندھ میں جنگلات کی تباہی کی بڑی ذمہ دار بے لگام ٹمبر مافیا بھی ہے جس کے ا?گے حکام بے بس ہیں۔یہ ٹمبر مافیا سندھ کے ساحلی علاقوں میں پائے جانے والے قیمتی ترین تیمر کے جنگلات کو نصف سے زیادہ کاٹ چکی ہے۔سندھ کے ساحلی شہر کراچی کے ساحل پر واقع مینگرووز یا تیمر کے جنگلات کا شمار دنیا کے بڑے جنگلات میں کیا جاتا ہے۔ یہ جنگلات کراچی میں سینڈز پٹ سے لے کر پورٹ قاسم تک پھیلے ہوئے ہیں۔تیمر کا جنگل بیک وقت نمکین اور تازہ پانیوں میں نشونما پاتا ہے اور دریائے سندھ کا زرخیز ڈیلٹا ان ہرے بھرے مینگرووز کا گھر ہے۔سنہ 2004 میں بحیرہ عرب میں ا?نے والے خطرناک سونامی نے بھارت سمیت کئی ممالک کو اپنا نشانہ بنایا تاہم پاکستان انہی تیمر کے جنگلات کی وجہ سے محفوظ رہا۔بیسویں صدی کے شروع میں یہ مینگرووز 6 لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے تھے جو ٹمبر مافیا کی من مانی کی وجہ سے اب گھٹتے گھٹتے صرف 1 لاکھ 30 ہزار ایکڑ تک رہ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں