مدینہ جیسی فلاحی ریاست ….!


دو ٹوک…. مختار عاقل
وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد رواں سال اگست میں قوم سے اپنے پہلے نشری خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے ۔ ان سے قبل کسی پاکستانی حکمران نے اس طرح دو ٹوک انداز میں مدینہ منورہ اور نبی پاک حضرت محمد ﷺ سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار نہیں کیا تھا ۔ 1973ءمیں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے پاکستانی آئین میں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا گیا ہے اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ اسلام ہمارا دین ‘ سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں لیکن ان کے یہ تینوں نکات ایک دوسرے سے متصادم ہیں ۔ اگرچہ اسلام ہمارا دین ہے تو پھر اسلام بذات خود مکمل ضابطہ¿ حیات ہے اس کا اپنا معاشی اور سیاسی نظام ہے ۔ اس میں سوشلزم کی پیوندکاری کرکے اسے اسلامی سوشلزم کردیا گیا جو اسلام تھا نہ سوشلزم ‘ بینکوں تعلیمی اداروں‘ کارخانوں اور بڑے صنعتی اداروں کو قومی ملکیت میں لے کر ان کا اصل کارخانوں اور بڑے صنعتی اداروں کو قومی ملکیت میں لے کر ان کا اصل حلیہ بھی بگاڑ دیا گیا ۔ ان اداروں میں نا اہل افراد کو بھرتی کرکے ان کی کارکردگی صفر کردی گئی جس کے بعد خود پی پی حکومت نے ہی ڈی نیشنلائزیشن کا نعرہ لگا کر پارٹی کی بنیاد اور اساس پر پانی پھیر دیا ۔ اسی طرح اسلام میں طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ (والی اللہ ترجع الامور)تمام کام صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پاتے ہیں ۔ وہی طاقت و توانائی کا سرچشمہ ہے ۔ مسلمان جب تک اس نظریہ پر صدق دل سے عمل کرتے رہے دنیا میں سرخرو ہوئے ۔ خلفائے راشدین میں سے دوئم خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں مسلمان دنیا کا 22لاکھ مربع میل علاقہ فتح کرچکے تھے اور وہاں اسلام کا پرچم لہرا دیا تھا ۔ اس وسیع و عریض اسلامی سلطنت میں دریائے رجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا نہیں سوتا تھا ۔ اس دور میں بیت المال قائم ہوا جس میں زکوٰة کی رقم اور عطیات جمع ہوتے تھے جن کا پوری دیانتداری سے گوشوارہ مرتب ہوتا تھا ۔ بعض لوگوں نے زکوٰة کی ادائیگی سے انکار کیا تو انہیں سزائیں بھی دی گئیں ۔ آج پاکستان کا ایک بڑا اور بالخصوص دولتمند طبقہ ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ حکومت اور ریاست کے لیے مالیات کا شعبہ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی سے ترقیاتی امور انجام پاتے اور عوام الناس کی فلاح و بہبود ہوتی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مدینہ جیسی فلاحی ریاست کی تشکیل کا اعلان بھی اسی صورت میں پایہ¿ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے جب 22کروڑ عوام اور تمام ریاستی ادارے مل جل کر اس کے لیے عملی کوششیں کریں اور دیانتداری پر مشتمل ماحول پیدا کیا جائے ۔ اسلامی فلاحی معاشرے کا ایک اہم جز و عفوودرگزر اور صبر و برداشت ہے ۔ جس کا ہمارے سماج میں قحط پڑا ہے ۔ ہم رسول مقبول کے امتی ہیں لیکن ان کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ معاشرے عفو و درگزر ایثار و قربانی عدل و انصاف اور ایمانداری کی بنیاد پر پرورش پاتے اور ترقی کرتے ہیں ۔ ہم جس نبی کے پیروکار ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ان اصولوں پر عمل کرکے مدینہ جیسی فلاحی ریاست تشکیل دی تھی ۔ حجاز کے علاقے طائف کا سفر اس کی روشن مثال ہے جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہؓ کے ساتھ طائف کا سفر کیا ۔ علاقے کے باشندوں نے آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑے کفار لڑکوں کی سنگ باری سے جسم مبارک لہولہان ہو جاتا تھا لیکن آنحضرت نے ان کے لیے بد دعا نہیں کی ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتہ خدمت اقدس میں حاضر ہو ا اور کہا کہ ”آپ حکم دیں تو اہل طائف کو دونوں پہاڑوں کے درمیان پیس دوں “ ۔ آنحصرت نے فرمایا ” نہیں ! مجھے امید ہے کہ ان کی پشت سے ایسی نسل نکلے گی جو ایک اللہ کو مانے گی “۔ دس دن بعد طائف سے واپسی کے سفر میں ایک گروہ نے آپ سے قرآن پاک کی تلاوت سنی اور وہ مسلمان ہو گیا ۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان کے دل و دماغ میں مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کا عزم راسخ ہے تو اس کے لیے پوری قوم کو تیار کرنا ضروری ہے ۔ ہمارا اخلاق تو جاپانیوں جیسا بھی نہیں ہے جو راستے میں کسی حادثہ یا دوسری گاڑی سے رگڑ لگنے کی صورت میں اپنی اپنی گاڑیوں سے اتر کر ایک دوسرے سے معافی مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے یہاں اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ گاڑیوں سے اتر کر ایک دوسرے کو مغلظات بکنا ‘ گریبان پکڑنا اور لڑنا جھگڑنا عام سی بات ہے جس کا نظارہ ہر روز ہماری سڑکوں پر نظر آتا ہے ہم عید الاضحی کے ایام میں دنیا کی سب سے گندی قوم بن جاتے ہیں اپنی شان و شوکت دکھانے کے لیے گلیوں اور محلوں میں جانور باندھ کر گندگی پھیلاتے ہیں ۔ ہم اس معاملے میں سعودی عرب اور دبئی کی راہ پر چلنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں جہاں قربانی کے مخصوص مقامات کے علاوہ رہائشی علاقوں میں جانور ذبح کرنا ممنوع ہے ۔ صفائی نصف ایمان ہے لیکن ہم دوسرے مسلم ممالک کی تقلید کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ۔ قرآن مجید میں حکم ربی ہے ” قال قولو سدیداً “ ہمیشہ سچ بولو ۔ ہمارے ملک میں کتنے فیصد لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ہم پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے کچرا پھینکنا یا انہیں تنگ کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکامات اور قوانین پر عملدرآمد تو درکار ‘ ہم تو ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو 71سال گزرنے کے بعد مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان تو کردیا ہے لیکن اس کے لیے قوم کی ذہن سازی بھی ضروری ہے ۔ موجودہ حکومت پہلی مرتبہ ماہ ربیع الاول سرکاری سطح پر منارہی ہے ۔ وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی 12ربیع الاول کے موقع پر دو روزہ ”سیرت کانفرنس“ منعقد کررہی ہے ۔ یہ اس عظیم ہستی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ ہے جس نے گمراہی میں ڈوبے انسانوں کی ذہن سازی کی اور انہیں کندن بنادیا ۔ ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے بعد بھی یہ روشنی قائم و دائم ہے ۔ جس کی توانائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔