پاکستان کا امن مشن: جنگ کے شعلوں میں سفارت کاری کی روشن مثال

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جنگ کے شعلے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات خطوں، معیشتوں اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان طویل کشیدگی، اسرائیل کی مسلسل جارحیت، غزہ و لبنان میں خونریزی اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورت حال نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا تھا۔ ایسے مشکل اور پیچیدہ ماحول میں پاکستان نے محض ایک تماشائی بننے کے بجائے ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور فعال ریاست کا کردار ادا کیا اور جنگ کے فریقین کے درمیان اعتماد سازی کا وہ مشکل فریضہ سرانجام دیا جس کے بغیر کسی ٹھوس اور پائیدار معاہدے کا تصور ممکن نہ تھا۔

پاکستان کی قیادت نے اس بحران میں جس تدبر، سنجیدگی اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف پس پردہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا بلکہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ معمولی پیش رفت نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، کیونکہ ایسے حالات میں جب فریقین کے درمیان بداعتمادی اپنی انتہا کو چھو رہی ہو، ایک میز پر بٹھانا ہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ پاکستان نے یہی مشکل مرحلہ طے کر کے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ صرف خطے کا اہم ملک نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سفارتی قوت بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جنگ کا خاتمہ صرف جنگ بندی کے اعلان سے نہیں ہوتا، بلکہ اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی، معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد اور مستقبل میں کشیدگی کے امکانات کو کم کرنے کے لیے مضبوط بنیادیں رکھی جائیں۔ پاکستان نے اسی نکتے کو سمجھتے ہوئے اعتماد سازی کے عمل کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی کا محور بنایا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں فریقین نے ساٹھ دن کے اندر معاہدے کے تمام نکات پر عملدرآمد پر آمادگی ظاہر کی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ مذاکرات محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز عمل کے طور پر آگے بڑھے۔

اگر اس پورے بحران میں سب سے بڑی رکاوٹ کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کا جنگجو اور جارحانہ کردار نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ اسرائیل مسلسل غزہ اور لبنان پر بمباری کر کے نہ صرف شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ خطے میں امن کے ہر امکان کو بھی کمزور کر رہا ہے۔

مقبوضہ علاقوں سے انخلا پر آمادہ نہ ہونا، طاقت کے استعمال کو ترجیح دینا اور مذاکراتی ماحول کو سبوتاژ کرنا وہ عوامل ہیں جنہوں نے پورے خطے کو ایک بڑے انسانی المیے میں دھکیل رکھا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ پاکستان ایک طرف جنگ کے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور دوسری طرف خطے میں ایک متوازن، منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے آواز بھی بلند کر رہا ہے۔

پاکستان کی اس کاوش کا اعتراف صرف اندرونِ ملک نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد نے سفارتی محاذ پر اپنی اہمیت ایک بار پھر منوا لی ہے۔ یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کی توثیق ہے کہ پاکستان نے بحران کے حل میں محض رسمی سہولت کار کا نہیں بلکہ ایک مؤثر ثالث، ایک ذمہ دار مسلم ریاست اور ایک سنجیدہ علاقائی طاقت کا کردار ادا کیا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کا یہ کردار کسی وقتی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ خطے کے امن، مسلم دنیا کے استحکام اور عالمی کشیدگی میں کمی کے وسیع تر مقصد کے تحت سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ مذاکرات، باہمی احترام اور انصاف پر مبنی سفارت کاری ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دنیا مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوئی صورت تلاش کر رہی ہے تو پاکستان کا نام ایک مثبت، تعمیری اور ذمہ دار قوت کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اس تمام صورت حال میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اپنے قومی مفادات کا محافظ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ، خطے اور عالمی امن کے وسیع تر مفاد میں بھی قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا، فریقین کے درمیان اعتماد سازی کرنا، معاہدے پر عملدرآمد کے لیے فضا ہموار کرنا اور جنگ کے بجائے امن کی راہ دکھانا بلاشبہ ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا سبب بنے گی بلکہ یہ پیغام بھی دے گی کہ اگر نیت امن کی ہو اور قیادت باصلاحیت ہو تو بارود کے ڈھیر پر بھی مذاکرات کی شمع روشن کی جا سکتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے اس سفارتی کردار کو مزید مستحکم کرے، عالمی برادری کے ساتھ مل کر غزہ، لبنان اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں انصاف پر مبنی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے، اور دنیا کو یہ باور کراتا رہے کہ طاقت کا اصل استعمال جنگ بھڑکانے میں نہیں بلکہ جنگ روکنے میں ہے۔

پاکستان نے یہ راستہ چن لیا ہے، اور یہی راستہ اس کے وقار، ذمہ داری اور عالمی مقام کو مزید بلند کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں